ورلڈ کپ 2019 : 23 سال بعد دنیا کو ملے گا نیا ورلڈ چمپئن ، جانیں کس ٹیم کا پلڑا ہے زیادہ بھاری– News18 Urdu

ورلڈ کپ 2019 : 23 سال بعد دنیا کو ملے گا نیا ورلڈ چمپئن ، جانیں کس ٹیم کا پلڑا ہے زیادہ بھاری

قریب ڈیڑھ ماہ کی مہم جوئی کے بعد اب آئی سی سی ورلڈ کپ کا اختتام ہونے جا رہا ہے اور لندن کے لارڈس میدان پر نیوزی لینڈ اور میزبان انگلینڈ کے درمیان اتوار کو ہونے والے فائنل میں جیت کسی بھی ٹیم کی ہو 'تاریخ 'بننا طے ہے۔

Jul 13, 2019 11:38 PM IST | Updated on: Jul 13, 2019 11:38 PM IST

قریب ڈیڑھ ماہ کی مہم جوئی کے بعد اب آئی سی سی ورلڈ کپ کا اختتام ہونے جا رہا ہے اور لندن کے لارڈس میدان پر نیوزی لینڈ اور میزبان انگلینڈ کے درمیان اتوار کو ہونے والے فائنل میں جیت کسی بھی ٹیم کی ہو 'تاریخ 'بننا طے ہے۔ مسلسل دوسری بار آئی سی سی ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچے کین ولیمسن کی نگاہیں اپنی کیوی ٹیم کو پہلی بار چمپئن بنانے کیلئے میدان پر کمر کس کر اترنے پر مرکوز ہیں تو وہیں دوسری طرف مورگن پر انگلینڈ کو اپنے گھریلو میدان پر آئی سی سی ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار چمپئن کا تمغہ دلانے کا دباؤ ہے۔

انگلش ٹیم کے لیے نفسیاتی دباؤ اس لئے بھی زیادہ ہے کہ کرکٹ کا مرکز کہے جانے والے اس ملک کو ہی عالمی کپ کے فائنل میں پہنچنے میں 27 برس کا وقت لگ گیا اور اب اپنی گھریلو حالات میں اس سے ہر حال میں اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ورلڈ کپ 2019 : 23 سال بعد دنیا کو ملے گا نیا ورلڈ چمپئن ، جانیں کس ٹیم کا پلڑا ہے زیادہ بھاری

(Photo: ICC)

نیوزی لینڈ کے لیے موجودہ عالمی کپ کافی اتار چڑھاو بھرا رہا ہے اور ٹیم نے لیگ مرحلے میں شاندار کارکردگی کے ساتھ ٹیبل میں سرفہرست مقام کی حامل وراٹ کوہلی کی ہندستانی ٹیم کو سیمی فائنل میں شکست دے کر فائنل میں جگہ بنائی جبکہ خود اس کے لیے آخری لیگ مرحلے کا مقابلہ ہارنے کے بعد ایک وقت سیمی فائنل تک کیلئے کوالیفائی کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

اگرچہ سیمی فائنل مقابلے میں کیوی ٹیم نے بڑا الٹ پھیر کرتے ہوئے ہندستان کو بارش سے متاثر مقابلے میں ریزرو ڈے میں 18 رنز سے شکست دے کر فائنل میں داخلہ حاصل کیا ۔ اس میچ میں ہندستانی ٹیم کے ٹاپ آرڈر کو کیوی ٹیم کے بولروں نے پوری طرح منہدم کیا تھا اور ایک وقت 92 رن پر چھ وکٹ لے کر میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ اس میچ میں نیوزی لینڈ کے بلے بازوں نے گیند کے ساتھ بلے سے بھی بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جبکہ ان کی چست فیلڈنگ نے مضبوط مانے جانے والے ہندستانی بلے بازوں کو رن بنانے کا ایک بھی آسان موقع نہیں دیا۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کپتانوں مورگن اور ولیمسن نے متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی اپنی ٹیموں کو فائنل میں پہنچایا اور ایک جیت سے دونوں میں سے کسی کا نام بھی تاریخ میں سنہرے الفاظ میں درج ہو سکتا ہے۔ انگلینڈ پر اس مقابلے میں توقعات کا دباؤ سب سے زیادہ رہے گا۔ اگرچہ میزبان ٹیم کے پاس ایسے کھلاڑی ہیں ، جنہوں نے اب تک بااثر کارکردگی کی ہے۔

انگلینڈ نے جس طرح سیمی فائنل میں گزشتہ چمپئن آسٹریلیا کو شرمندہ کیا وہ نیوزی لینڈ کے لیے خطرے کی گھنٹی ہو سکتا ہے۔ انگلینڈ کے سلامی بلے بازوں جانی بيرسٹو اور جیسن رائے کمال کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور ان کی اوپننگ شراکت نے ٹیم کو مسلسل مضبوطی دی ہے۔ ایک وقت انگلینڈ ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا لیکن ٹیم نے واپسی کرتے ہوئے اپنے آخری دو اور پھر سیمی فائنل شاندار انداز میں جیت لیا۔

بيرسٹو ٹورنامنٹ میں 496 رنز، رائے 426، جو روٹ 549، بین اسٹوکس 381، مورگن 362 اور جوس بٹلر 253 رنز بنا چکے ہیں۔ یہ چھ بلے باز ایسے ہیں جو اپنی پہلی مرتبہ عالمی فاتح بننے کا خواب پورا کر سکتے ہیں۔ رائے نے تو سیمی فائنل میں 85 رنز کی طوفانی اننگز کھیل کر آسٹریلیا کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ نیوزی لینڈ کو اگر بلے بازوں کو روکنا ہے تو اس کے تیز گیند بازوں کو خاص کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

گیند بازی میں بھی انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی رہی ہے۔ فاسٹ بولر جوفرا آرچر 19 وکٹ، مارک ووڈ 17 وکٹ اور کرس ووکس 13 وکٹ لے چکے ہیں۔ ووکس نے آسٹریلیا کے ٹاپ آرڈر کو جھنجھوڑا تھا جبکہ آرچر کی تیزی کو برداشت کرنا اس ٹورنامنٹ میں بلے بازوں کے لیے کافی مشکل کام ثابت ہو رہا ہے۔

نیوزی لینڈ کی امیدوں کا دار و مدار بھی کپتان ولیمسن پر انحصار کرے گا جو شاندار فارم میں ہیں اور دو سنچریوں اور دو نصف سنچریوں کے درمیان 548 رنز بنا چکے ہیں۔ راس ٹیلر نے 335، جیمز نيشام نے 213 اور کولن ڈی گرینڈهوم نے 174 رن بنائے لیکن مقابلہ ولیمسن اور انگلش بولروں کے درمیان رہے گا۔ ولیمسن کی شبیہ کیپٹن کول جیسی ہے اور وہ نا مساعد حالات میں بھی پرسکون انداز میں اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں۔ اس بات کو انہوں نے ہندستان کے خلاف سیمی فائنل میں ثابت کیا۔

Loading...