کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو ٹیم انڈیا کی ورلڈ کپ جرسی پر اعتراض ، آئی سی سی نے دیا یہ جواب– News18 Urdu

کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو ٹیم انڈیا کی ورلڈ کپ جرسی پر اعتراض ، آئی سی سی نے دیا یہ جواب

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے دوران ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی بھگوا جرسی کو لے کر تنازع ہوگیا ہے ۔

Jun 26, 2019 07:27 PM IST | Updated on: Jun 26, 2019 07:27 PM IST

آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں انگلینڈ کے خلاف میچ کے دوران ہندوستان کی کرکٹ ٹیم کی بھگوا جرسی کو لے کر تنازع ہوگیا ہے ۔ ہندوستان میں سیاسی پارٹیوں نے اس جرسی پر اعتراض کیا ہے اور مرکز کی مودی حکومت پر نشانہ سادھا ہے ۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے جرسی کے رنگ کیلئے بھگوا رنگ کے انتخاب پر اعتراض کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی سی سی آئی نے یہ رنگ مرکزی حکومت کو خوش کرنے کیلئے منتخب کیا ہے ۔ تاہم بی جے پی نے ان الزامات کو خارج کردیا ہے ۔

ادھر بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے کہا ہے کہ رنگ کمبنیشن ان کی طرف سے بی سی سی آئی کو بھیجا گیا تھا ۔ بتادیں کہ ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان میچ 30 جون کو برمنگھم میں کھیلا جائے گا ۔ خیال رہے کہ ابھی تک آفیشیل طور پر ہندستانی ٹیم کی جرسی سامنے نہیں آئی ہے ۔ تاہم سوشل میڈیا پر جرسی کی الگ الگ تصویریں شیئر کی جارہی ہیں ۔ حالانکہ یہ ضرور صاف ہوگیا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف جو میچ ہوگا اس میں ٹیم انڈیا کی جرسی میں اورینج شیڈ بھی ہوگا ۔

کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو ٹیم انڈیا کی ورلڈ کپ جرسی پر اعتراض ، آئی سی سی نے دیا یہ جواب

کانگریس اور سماجوادی پارٹی کو ٹیم انڈیا کی ورلڈ کپ جرسی پر اعتراض

Loading...

غور طلب ہے کہ آئی سی سی کا قانون ہے کہ ایک میچ میں ایک جیسے رنگ والی جرسی پہن کر دونوں ٹیمیں میدان پر نہیں اتر سکتی ہیں ۔ ایسے میں ایک ٹیم کی جرسی کا رنگ تبدیل کیا جانا چاہئے ۔ یہ قانون فٹ بال کے میچوں میں پہنی جانے والی جرسی سے ترغیب پاکر بنایا گیا ہے ۔ ایسے معاملات میں میزبان ٹیم کو ہی اپنی سابق مقررہ رنگ کی جرسی پہننے کی اجازت ہوتی ہے ۔

india england match, india orange jersey, india world cup jersey, icc cricket world cup 2019, india new jersey, भारत ऑरेंज जर्सी, इंडिया भगवा जर्सी, इंडिया इंग्‍लैंड मैच, इंडिया ऑरेंज जर्सी

سماجوادی پارٹی کے لیڈر ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ مودی پورے ملک کو بھگوا رنگ میں رنگنا چاہتے ہیں ۔ مودی جی کو بتانا چاہتا ہوں کہ جھنڈے کو رنگ دینے والا مسلم تھا ۔ ترنگے میں اور بھی رنگ ہیں ، صرف بھگوا ہی کیوں ؟ ترنگے کے رنگ میں ان کی جرسی ہوتی تو بہتر ہوتا ۔

وہیں کانگریس لیڈر اور سابق وزیر نسیم خان نے کہا کہ مودی حکومت جب سے آئی ہے ، تب سے بھگوا سیاست شروع ہوئی ہے ۔ ترنگے کا احترام کیا جائے ، قومی اتحاد کو پروموٹ کیا گیا ہے ، یہ حکومت ہر چیز کو بھگوا رنگ میں رنگنے کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ ادھر بی جے پی کے لیڈر رام کدم نے کہا کہ بھگوا رنگ کو لے کر اپوزیشن کو کیا اعتراض ہے ۔ کبھی بھگوا دہشت گردی کا معاملہ ہوتا ہے تو کبھی بھگوا رنگ کا ، کھیل سے دور رکھنا چاہئے ۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے ، اس لئے یہ رنگ کی سیاست کررہی ہے ۔

Loading...