ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ زیر التوا مسائل پر امریکی ثالثی کی تجویز مسترد کی

Apr 04, 2017 11:27 PM IST | Updated on: Apr 04, 2017 11:27 PM IST

نئی دہلی / نیویارک۔  ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ اس کے زیر التواء مسائل کے حل کے لیے امریکی ثالثی کی تجویز کو آج سختی کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ اقوام متحدہ میں امریکہ کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے کل نیویارک میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں حصہ بننا پسند کرے گا۔ سفارتی گلیاروں میں اسے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امریکہ کا اب تک یہ موقف رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے مسائل کو دو طرفہ طور پر سلجھائیں۔

محترمہ ہیلی کے تبصرے پر رائے کا اظہار کرتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے اسے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا رخ ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ ہندوستان پاکستان کے تمام مسائل کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ماحول میں دو طرفہ بات چیت سے حل کیا جانا چاہیے اور اس موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے تاہم یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو توقع ہے کہ بین الاقوامی برادری اور تنظیم پاکستان میں پنپنے والی دہشت گردی کے سلسلے میں بین الاقوامی قوانین کو مؤثر طریقے سے لاگو کرے جو ہمارے علاقے اور ارد گرد کے علاقے میں امن و استحکام کے لیے اکیلا سب سے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔

ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ زیر التوا مسائل پر امریکی ثالثی کی تجویز مسترد کی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، فائل فوٹو، رائٹرز

محترمہ ہیلی نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں شریک بننے کی کوشش کرے گا۔ انهوں نے کہا تھا، ’’ہمیں نہیں لگتا کہ ہمیں کچھ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں فعال ہونا چاہیے کیونکہ کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے اور تصادم کبھی بھی شروع ہو سکتا ہے اور اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس میں حصہ بنیں‘‘۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز