کینساس فائرنگ واقعہ سے امریکہ میں ہندوستانی اور اقلیتی کمیونٹی فکرمند

Feb 25, 2017 12:15 PM IST | Updated on: Feb 25, 2017 12:18 PM IST

نیویارک۔ امریکہ کے کینساس شہر کے ایک بار کے باہر ایک ہندستانی انجینئر کے قتل اور دوسرے ہندوستانی کو زخمی کئے جانے کے واقعہ سے امریکہ میں رہنے والی ہندوستانی کمیونٹی کے لوگوں میں تشویش ہے۔ اس فائرنگ  میں سابق بحری فوجی ایڈم پرنٹن (51) پر ایک سازش کے تحت قتل کرنے کا الزام لگا ہے۔ اس فائرنگ میں ایک ہندوستانی انجینئر سری نیواس کوچی بھوتلا (32) کی موت ہو گئی اور آلوک مداسانی (32) شدید طور پر زخمی ہو گئے۔ اس دوران  اسے روکنے کے لئے بیچ میں آیا ایک امریکی بھی زخمی ہو گیا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ فائرنگ سے پہلے ایڈم زور زور سے چیخ رہا تھا "میرے ملک سے باہر جاؤ" ۔اس حملے کے بعد کینساس شہر میں رہنے والی ہندوستانی کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اب ان میں اپنی حفاظت کے تعلق سے تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ اوورلینڈ سب سٹی علاقے میں ایک ڈانس اکیڈمی چلانے والی سمرپتا باجپئی(45) کا کہنا ہے کہ "ہمیں اس واقعہ سے کافی دھچکا لگا ہے کیونکہ ہم یہاں کافی وقت سے رہتے آئے ہیں اور یہ ایک طرح سے ہمارے گھر جیسا ہو گیا ہے۔ میں گزشتہ 20 برسوں سے یہاں مقیم ہوں اور اب رات میں کہیں بھی جانے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے گا۔ یہاں کے مقامی علاقوں میں ہمارا زوردار استقبال ہوتا تھا۔ "ان کے ڈانس گروپ میں 10 دیگر رکن ہیں جو امریکی ہیں اور ہندستانی ثقافت کو خوب پسند کرتے ہیں۔

اس فائرنگ کے بعد امریکہ میں رہنے والی اقلیتی کمیونٹی اب خود کو تھوڑا غیر محفوظ اور غیر آرام دہ محسوس کرنے لگی ہے کیونکہ یہاں کے سیاسی اور سماجی ماحول میں کافی تبدیلی آ چکی ہے خاص طور پر نئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی بیان بازی سے لوگ خود کوکم محفوظ محسوس کررہے ہیں۔ ایک تنظیم "دی ساودرن پوورٹی لا سینٹر" کی اس ماہ پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق مسٹر ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے شدت پسند تنظیموں میں کافی توسیع ہوئی ہے۔ کینساس شہر کی مجموعی آبادی تقریبا20 لاکھ ہے اور یہاں ہندستانی لوگوں کی تعداد 25 ہزار سے 30 ہزار کے درمیان ہے۔ کینساس میں ہندستانی کمیونٹی یونین کے سابق صدر وجے ایناپراپو نے بتایا کہ 2001 کے بعد شہر میں ہندوستانی لوگوں کی تعداد میں دس گنا اضافہ ہوا ہے۔

کینساس فائرنگ واقعہ سے امریکہ میں ہندوستانی اور اقلیتی کمیونٹی فکرمند

مقتول سری نیواس کوچی بھوتلا اپنی اہلیہ کے ساتھ پوز دیتے ہوئے، فائل فوٹو، فوٹو کریڈٹ اے پی

ایک مقامی چینل سٹی اسٹار کی رپورٹ کے مطابق اس فائرنگ کو انجام دینے کے بعد وہاں سے بھاگتے وقت حملہ آور زور زور سے چیخ رہا تھا کہ اس نے وسط ایشیا کے دو لوگوں کو گولی مار دی ہے۔ یہاں رہ رہے ہندستانی اجے سود نے بتایا کہ امریکی شہری کبھی بھی اپنے ملک سے باہر نہیں گئے ہیں اور لوگوں کی قومیت کے تعلق سے انہیں زیادہ واقفیت نہیں ہوتی اور وہ یہ پہچان نہیں کر پاتے کہ کون ہندستانی شہری ہے اور کون افغانستان کا رہنے والا یا سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز