ہندوستانی ڈاکٹر عظمی نے پاک عدالت میں کہا : شادی پر مجبور کیا گیا ، وطن واپسی کی اجازت دی جائے

May 20, 2017 11:55 AM IST | Updated on: May 20, 2017 11:55 AM IST

اسلام آباد: اسلام آباد میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن میں پناہ مانگنے والی ہندوستانی خاتون عظمی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے کہا کہ اسے پاکستانی شخص سے شادی کے لئے مجبور کیا گیا۔ عظمی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اسے ہندوستان واپس جانے کی جازت دے۔ پاکستانی اخبارڈان نے عظمی کے عدالت کو دئے گئے تحریری بیان کی ایک کاپی کے حوالے سے بتایاکہ ہندوستانی خاتون عظمی کے سر پر بندوق تان کر اسے نکاح کے دستاویز پر دستخط کرنے کو مجبور کیا گیا۔

عظمی نے عدالت میں اپنے سابقہ بیان کا اعادہ کیا کہ اسے اس کے پاکستانی شوہر طاہر علی نے بندوق کا ڈر دکھاکر شادی کے لئے مجبور کیا۔ اخبار نے عظمی کے جواب کی کاپی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی، اذیت دی گئی اور بری طرح ذلیل کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق دستاویز پر دستخط کرنے سے پہلے عظمی کو بے رحمی سے دبا گیا۔ نیند کی گولی کے ذریعہ بیہوش کیا گیا اورواگھہ سرحد پر اس کا جنسی استحصال کیا گیا۔

ہندوستانی ڈاکٹر عظمی نے پاک عدالت میں کہا : شادی پر مجبور کیا گیا ، وطن واپسی کی اجازت دی جائے

photo : express .pk

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب عظمی کو ہوش آیا تو اس نے خود کو خیبر پختون خواہ کے بنیر میں پائی۔ اس نے کہاکہ اسے جسمانی اور ذہنی طور پرکافی تکلیف پہنچائی گئی۔ وکیل شاہنوا ز نون نے عدالت کو تحریری جواب سوپنا جس میں واقعہ کے بارے میں عظمی کا تفصیلی موقف رکھا اور کہاکہ عظمی کا ویزہ 30مئی کو ختم ہورہا ہے۔ لہذا اسے ہندوستان بھیجنے کی اجازت دی جائے۔ دریں اثنا وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہاکہ سبھی ضابطے کی کارروائی پوری ہونے کے بعد عظمی کو ہندوستان بھیجا جائے گا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز