ہندوستان نے دیا پاکستان کوزبردست جواب 'اگربات کرنی ہے تو ممبئی اورپٹھان کوٹ حملوں پرٹھوس اقدامات کریں'۔

ہندوستان نے کہاہے کہ بات چیت کے لئے پاکستان کی پیشکش میں کوئی سنجیدگی نہیں ہے کیونکہ وہ دہشت گردانہ تنظیموں کو واضح طورپرحمایت دے رہا ہے اورانہیں مین اسٹریم میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔

Jan 11, 2019 07:53 PM IST | Updated on: Jan 11, 2019 07:53 PM IST

نئی دہلی: ہندوستان نے حال ہی میں پاکستان کی طرف سے پیش کی گئی بات چیت کی تجویز ’غیر سنجیدہ' قراردیتے ہوئے آج اس سے تین سوال پوچھے اورکہا کہ اگروہ واقعی بات چیت کے تعلق سے سنجیدہ ہے تو اسے ممبئ اورپٹھان کوٹ حملوں کے قصوروارلوگوں کے خلاف ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمارنے یہاں معمول کی پریس بریفنگ میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے بیان پرسخت ردعمل ظاہرکیا۔ انھوں نے اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی قیادت اپنے معاشی بحران سے ملک کی توجہ ہٹانے کے لئے اس طرح کی بیان بازی کا سہارا لے رہی ہے۔ اس کے اقدامات سے ہرگزیہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ واقعی بات چیت کرنا چاہتاہے۔

ہندوستان نے دیا پاکستان کوزبردست جواب 'اگربات کرنی ہے تو ممبئی اورپٹھان کوٹ حملوں پرٹھوس اقدامات کریں'۔

رویش کمارنے کہا کہ "مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کا (عمران خان کا ) بیان کہاں سے آیاہے"۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نریندرمودی نے پاکستان کےعام انتخابات میں عمران خان کی جیت پرانھیں فون کرکے مبار ک باد دی تھی۔ جب انھوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تو نریندرمودی نے عمران خان کواوروزیرخارجہ سشما سوراج نے پاکستان کے وزیرخارجہ کوخط لکھا تھا۔

Loading...

وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے بیانات پروہ اس سے کچھ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب جب پاکستان کہتا ہے کہ وہ ہندستان سے بات چیت کےلئے تیارہے، تب تب اس کے وزرا ممنوعہ تنظیموں کے دہشت گردوں کےساتھ کیوں نظر آتے ہیں۔  انہو ں نے کہا "اس حملے سے متعلق صرف ایک مشتبہ کوگرفتارکیا جانا باقی ہے۔ ڈاکٹرشیخ نے کہا کہ دہشت گرد پابندی شدہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی اے ایل اے) سے تعلق رکھتا ہے۔ حملے کا مقصد چین اورپاکستان کے درمیان تعلقات میں رکاوٹ اورچین۔ پاکستان اکنامی گلیارے کو نقصان پہنچانا تھا۔

اس سے قبل پولس نے آج بتایا تھا کہ چینی قونصلیٹ پردہشت گردانہ حملے کی جانچ پوری کرلی گئی ہے۔ چین کے قونصلیٹ پرگزشتہ سال 23 نومبرکو حملہ کیا گیا تھا۔ اس میں تین دہشت گرد مارے گئے تھے۔ حملے میں دوپولس اہلکاربھی شہید ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے آئے باپ اوربیٹے بھی اس حملے کا شکار ہوئے۔ پولس نے کم ازکم 9 ہتھ گولےاور دیگردھماکہ خیزاشیاء برآمد کیا تھا۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز