Live Results Assembly Elections 2018

سول سروسز اور سیاست میں مسلم نمائندگی بڑھانے کی ضرورت : ظفر محمود، چیئرمین زکوۃ فاونڈیشن

زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئرمین ظفر محمود نے سول سروس میں مسلمانوں کی کم نمائندگی پرتشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو اس میدان میں اپنی شراکت بڑھانے کے لئے محنت پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔

Dec 10, 2017 09:00 PM IST | Updated on: Dec 10, 2017 09:00 PM IST

نئی دہلی : زکوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے چیئرمین ظفر محمود نے سول سروس میں مسلمانوں کی کم نمائندگی پرتشویش کا ظہار کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو اس میدان میں اپنی شراکت بڑھانے کے لئے محنت پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ انہوں نے یہ بات ’بارکونسل کا کردار اورذمہ داری‘کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ آل انڈیا مسلم ایڈوکیٹس فورم فار جسٹس امین الدین ایجوکیشن اینڈ ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں انہوں نے کہاکہ سول سروسز میں مسلمانوں کی نمائندگی 2.5فیصد ہے جب کہ مسلمانوں کی آبادی 14فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی نمائندگی صرف سول سروس میں کم نہیں ہے بلکہ لیجس لیٹیومیں بھی نمائندگی کم ہے۔ انہوں نے کہاکہ آزادی کے بعدپارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی کبھی بھی آبادی کے تناسب سے نہیں رہی جب کہ اس وقت پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی تعداد77 ہونی چاہئے۔

اسلامک کلچرل سنٹر کے چیئرمین سراج الدین قریشی نے مسلمانوں کی عدلیہ میں کم ہوتی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ مسلمانوں کو اس پر توجہ دینی چاہئے۔ ساتھ ہی مسلم وکلاء کو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے انسانیت اور قوم کے لئے کام کرنا چاہئے تاکہ عام لوگوں کو انصاف ملے۔ انہوں نے مسلم وکلاء سے اپیل کی کہ وہ غریبوں کامقدمہ مفت لڑیں۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہاکہ وہ ادارے قائم کریں اور ساتھ ہی ادارے کے بقا کی تدبیر کریں۔

سول سروسز اور سیاست میں مسلم نمائندگی بڑھانے کی ضرورت : ظفر محمود، چیئرمین زکوۃ فاونڈیشن

سپریم کورٹ کی سینئر وکیل اور سماجی کارکن اندرا جے سنگھ نے اس موقع پر کہا کہ وکیلوں کو مفاد عامہ کے لئے کام کرنا چاہئے کیوں کہ وہ آسانی سے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بار کونسل قانون کی حفاظت اور وکلاء کے مفاد کے تحفظ کے لئے اور اس میں شفافیت ضروری ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیاست میں کنبہ پروری کی بات کی جاتی ہے لیکن بار کونسل میں کنبہ پروری کی بات نہیں کی جاتی ہے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے مشہور وکیل ،اٹارنی سولیسٹر اور آل انڈیا مسلم ایڈوکیٹس فورم فار جسٹس سکریٹری جنرل سرفراز احمد صدیقی نے کہا کہ جب تک ہم بار کونسلوں کے رول اور ذمہ داریوں کو نہیں سمجھیں گے اس وقت تک اس کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھیں گے۔ انہوں نے کہاکہ بار کونسل میں اچھے لوگوں کی ضرورت ہے اور ہماری کمی یہ ہے کہ ہم اچھے لوگوں کو منتخب نہیں کرتے۔

Loading...

سرفراز احمد صدیقی نے بتایا کہ جس طرح پہلے وکلاء حضرات سماج کے تئیں اپنی ذمہ داری ادا کرتے تھے اس میں کمی آئی ہے اس لئے اس موضوع پر سیمنار کرکے وکلاء میں سماج کے تئیں کے ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء اس حالت میں وہ سماج کو بہت سی پریشانیوں سے نکال سکتے ہیں بلکہ ان کی رہنمائی بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء کی تاریخ سنہری رہی ہے اور انہوں نے جنگ آزادی سے لیکر مختلف میدانوں میں ملک کی قیادت کی ہے اسی لئے وقت آگیا ہے کہ موجودہ دور میں جب کہ سماج میں نفرت، عداوت اور خوف کا ماحول ہے اس سے نکالنے کے لئے وکلاء اپنا رول ادا کریں اوراپنی ذمہ داری ادا کریں۔

سپریم کورٹ کے وکیل شکیل احمد نے کہاکہ بار کونسل کی اس وقت تک اہمیت نہیں ہوگی جب تک اس میں نئے وکلا کو شامل نہیں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب نئے لوگ آئیں گے تو بارکونسل میں نئی توانائی آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ بار کونسل اس لئے ناکارہ ہے کیوں کہ اس میں 20،25سال سے بیٹھے ہیں۔

ایڈووکیٹ جے اے جعفری نے اچھے وکلاء کی تیاری پر زور دیتے ہوئے کہاکہ آج ایسے لا ء کالج کھل گئے ہیں جو لاء کالج نہ ہوکر لاء شاپ بن گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاء کی تعلیم کا معیار اس لئے خراب ہے کیوں کہ لا ء کالج مشروم کی طرح اگ رہے ہیں۔سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر متریجا نے کہا کہ بارکونسل ہمارے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ سینئروکلاء کو بھی بار کونسل میں جگہ ملنی چاہئے۔ نوجوان وکیل ایشوریہ ڈوبھال نے کہاکہ بارکونسل کے ہوتے ہوئے بھی نئے وکلاء کی سہولت کے لئے کچھ نہیں ہے۔ایک اور نوجوان وکیل ابیحہ عباس رضوی نے بار کونسل کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہاکہ بار کونسل ہمارے لئے سیف گارڈ ہے۔نظامت کے فرائض ایڈووکیٹ اطہرعالم نے انجام دئے اور سپریم کورٹ کی ایڈووکیٹ ستیہ صدیقی نے مہمانوں کا تعارف کرایا نیز آل انڈیا ایڈووکیٹ فورم کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے موقع مختلف شعبہ ہائے حیات سے وابستہ مشہور شخصیات کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ جن میں ڈاکٹر ظفرمحمود، سراج الدین قریشی، اندرا جے سنگھ، پروفیسر افضل وانی، ڈین اندر پرستھ یونیورسٹی، جے اے جعفری، پرنٹ میڈیا سے یو این آئی کے صحافی عابد انورکو’پرنٹ میڈیا ایکسلینسی ایوارڈ اورالیکٹرونک میڈیا سے ضیا ء الرحمان شامل ہیں۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز