جب وزیر اعظم نے ہی اپنی پارٹی کے امیدوار کا ساتھ نہیں دیا

Jun 18, 2017 12:39 PM IST | Updated on: Jun 18, 2017 12:39 PM IST

نئی دہلی : صدارتی انتخاب میں عام طور پر حکمراں پارٹی کا امیدوار ہی کامیاب ہوتا ہے لیکن ایک ایسا انتخاب بھی تھا جس میں وزیر اعظم نے ہی اپنی پارٹی کے امیدوار کی حمایت نہیں کی اور اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ دلچسپ انتخابات 1969 میں ہوا تھا جس میں آزاد امیدوار وی وی گری حکمراں کانگریس کے امیدوار نیلم سنجیو ریڈی كو شکست دے کر ملک کے صدر بنے تھے۔ اب تک کا یہ محض ایک انتخاب ہے جس میں پہلے دور کی ووٹوں کی گنتی میں کوئی بھی امیدوار جیت کیلئے ضروری ووٹ حاصل نہیں کر سکا تھا اور دوسرے زمرے کے ووٹوں کا حساب اور نچلے نمبر پرشمار امیدواروں کو ایک ایک کرکے باہر کئے جانے کے بعد انتخابات کے نتائج کا فیصلہ ہو سکا تھا۔

اس وقت کے صدر ذاکر حسین کی مئی 1969 میں انتقال ہوجانے پر یہ انتخابات کرانا پڑا تھا۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی صدر کی اس مدت کے وسط میں ہی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت کے نائب صدر وی وی گری نگراں صدر بنے تھے۔ اس وقت تک نائب صدر كو صدر بنانے کی ایک روایت سی تھی جو 1969 کے انتخابات میں ٹوٹ گئی۔

جب وزیر اعظم نے ہی اپنی پارٹی کے امیدوار کا ساتھ نہیں دیا

یہ وہ دور تھا جب اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کو اپنی ہی پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا اور وہ اپنے کو ایک مضبوط رہنما کے طور پر برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف تھیں۔ اندرا مخالف سنڈیکیٹ لیڈروں نے اس صدارتی انتخابات کو اندرا گاندھی کو نیچا دکھانے کے لئے ایک نمایاں موقع کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے وی وی گری کو نائب صدر سے صدر بنانے کی جگہ سنجیوا ریڈی کو امیدوار بنانے کی تجویز پیش کی۔ اندرا گاندھی نے امیدوار کی حیثیت سے جگ جیون رام کا نام آگے کیا۔ کانگریس پارلیمانی بورڈ میں اکثریت حق میں نہ ہونے کی وجہ سے ان کی نہیں چلی اور مجبورا انہیں پارٹی کے سرکاری امیدوار کی حیثیت سے سنجیوا ریڈی کا نام تجویز کرنا پڑا۔

اسی درمیان وی وی گری نے نائب صدر کے عہدے سے استعفی دےےكر آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔ ایسا مانا گیا کہ وہ اندرا گاندھی کے اشارے پر ہی انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ یہ بات اس وقت صحیح ہوتی نظر آئی جب کانگریس پارلیمانی پارٹی کے لیڈر کی حیثیت سے اندرا گاندھی نے پارٹی وہپ جاری کرنے سے انکار کر دیا اور انتخابات میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سے ضمیر کی آواز پر ووٹ دینے کی اپیل کی۔

سولہ اگست کو ہوئے اس انتخاب کی ووٹوں کی گنتی 20 اگست کو کرائی گئی جو اتار چڑھاو سے بھری رہی۔ کل 836637 ووٹ پڑے تھے اور الیکشن جیتنے کا کوٹہ 418469 کا تھا۔ پہلے دور کی ووٹوں کی گنتی میں گری کو 401515 ووٹ اور ریڈی کو 313548 ووٹ ملے۔ اس لئے دوسری زمرے کے ووٹوں کا حساب کرایا گیا۔ اس الیکشن میں کل 15 امیدوار میدان میں تھے۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران نچلے نمبر شمار کے امیدواروں كو ایک کرکے باہر کر کے ان کے دوسرے زمرے کے ووٹ پہلے اور دوسرے مقام کے امیدوار کو دیئے گئے۔ اس طرح گری 420077 ووٹ حاصل کر کے کامیاب قرار دئے گئے۔ ریڈی کو 405427 ووٹ ملے۔ اپوزیشن جن سنگھ اور آزاد پارٹی کے امیدوار سی ڈی دیشمکھ 112769 ووٹ ہی حاصل کر سکے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز