حج 2018 کا باضابطہ آغاز، 20 لاکھ عازمین حج آج منیٰ میں نمازاداکریں گے– News18 Urdu

حج 2018 کا باضابطہ آغاز، 20 لاکھ عازمین حج آج منیٰ میں نمازاداکریں گے

مناسک حج کی ادائیگی کے لئے منیٰ پہنچے 20 لاکھ عازمین حج آج منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اورعشا کی نمازادا کریں گے اور کل بعد نماز فجرعرفات کے لئے روانہ ہوں گے۔

Aug 19, 2018 01:41 PM IST | Updated on: Aug 19, 2018 02:12 PM IST

مناسکِ حج کے پہلے روز عازمینِ حج مکہ مکرمہ سے آٹھ کلومیڑ دور مِنیٰ پہنچ رہے ہیں۔ عازمین کی مِنی آمد کا سلسلہ اتوار کو رات گئے تک جاری رہے گا۔ مِنیٰ میں قیام کر کے کل پیر کے روز 9 ذو الحجہ کو صبح فجر کے بعد عازمین حج عرفات کا رخ کریں گے جہاں حج کا رکن اعظم یعنی "وقوف عرفات" ادا کیا جائے گا۔

مناسک حج کی ادائیگی کے لئے منیٰ پہنچے تمام عازمین حج آج منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب اورعشا  کی نمازادا کریں گے۔ بڑی تعداد میں لوگ رات میں ہی پہنچ گئے تھے۔ عازمین حج آج منیٰ میں ہی رہیں گے، اس کے بعد کل نماز فجر کی ادائیگی کے بعد عازمین حج عرفات کے لئے روانہ ہوجائیں گے۔

حج 2018 کا باضابطہ آغاز، 20 لاکھ عازمین حج آج منیٰ میں نمازاداکریں گے

مناسک حج کے دوران منیٰ کا روح پرور منظر۔

Loading...

منیٰ میں موجود مکہ مکرمہ میں استاد اورمعروف عالم دین  ڈاکٹرعبدالباری فتح اللہ مکی  نے بتایا کہ اب وقت کا تعین باقی نہیں رہا ہے۔ تاہم سنت کا طریقہ یہی ہے کہ حجاج مکہ سے آج چلیں، ظہرکی نمازمیں منیٰ پہنچیں۔ یہاں پورے دن اورپوری رات قیام کریں، پھرفجرکی نماز کی ادائیگی کے بعد  جب سورج نکلنے لگے تب عرفات کا رخ کریں۔ عرفات سے سورج ڈھلنے کے بعد مزدلفہ کا رخ کریں اوروہاں مغرب اورعشا کی نماز ادا کریں۔ رات بھرسوئیں اورپھرنماز فجرکے بعد سورج نکلنے سے کچھ قبل مزدلفہ سے منیٰ کی طرف چل پڑنا چاہئے۔

منیٰ میں موجود ایک اورعالم دین مولانا منصوراحمد مدنی نے بتایا کہ اس وقت منیٰ میں تقریباً  80 فیصد حجاج کرام  پہنچ چکے ہیں، مختلف حج کمیٹیوں کے ذریعہ حجاج لائے جارہے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ آج صبح سے ہی حجاج کرام پہنچ گئے ہیں۔ داخلی حجاج بھی پہنچ گئے ہیں اورشام تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ مکہ معظمہ پہنچ رہے مختلف ممالک کے عازمین الگ الگ شناخت کے لئے مختلف رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہاں وہ ہزاروں کی تعداد میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کعبہ پر پہلی نظر پڑتے ہی  وہ رو رو کر، گڑگڑا کر اس کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں، اپنی عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں، اللہ کی بڑائی بیان کرتے ہیں اوراپنے لئے، اپنے اقربا کے لئے اور تمام مسلمانوں کی مغفرت کے لئے دعا مانگتے ہیں۔

Loading...