خطبہ حج میں کہا گیا کہ ماہ رمضان میں رحمتوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، قرآن میں فرمایا گیا اللہ اپنی رحمت سے جسے چاہتا ہے علم عطا فرماتا ہے، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نےمسلم امہ کوایک جسم کی مانند قرار دیا، اپنے والدین کے ساتھ بھلائی کا راستہ اختیار کریں، والدین کےبعد رشتےداروں سے اچھا رویہ اختیارکریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم زمین والوں پررحم کرو اللہ تم پررحم فرمائےگا، رحم دلی سےآپس میں تعاون اوربھائی چارہ قائم کرو، امت کوچاہئےایک دوسرے سےشفقت کا معاملہ رکھے، نفرتیں ختم کرے، انسان ہویا جانور، سب سےرحمت کا معاملہ کریں۔

تقویٰ کا راستہ اختیار کرنے میں ہی فلاح وکامیابی

امام الشیخ محمد بن حسن آل الشیخ نے خطبہ حج میں کہا اللہ کی خصوصی رحمت اور فضل کے باعث انسان جنت میں داخل ہوگا، تقویٰ کا راستہ اختیارکرنےمیں ہی فلاح ہے، اللہ کی بارگاہ میں سجدہ ریزرہیں، تلاوت قرآن پاک کی عادت بنائیں، جواپنے نفس کا تزکیہ کرتا ہے اللہ اسےپاکی عطا فرماتا ہے، فرض نمازکی پابندی کرو، نمازاسلام کا اہم رکن ہے، بیشک اللہ کی رحمت احسان کرنیوالوں کے قریب ہے، اللہ کی رحمت سے ہی ہم شیطان کے وسوسوں سے بچےرہتے ہیں، مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، مومن ایک دوسرے کیلئے مغفرت کی دعا کرے۔

نماز قائم کریں اوربرائی کو روکیں

خطبہ حج میں کہا گیا کہ نماز قائم کریں، برائی کو روکیں، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں، اہل ایمان اللہ سے رحمت مانگیں، فرشتے اہل ایمان کیلئے رحمت کی دعا کرتے ہیں، غلطیاں معاف کرنے سے بھائی چارے کی فضا پیدا ہوتی ہے، اپنے گناہوں سے توبہ کرو، اللہ کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں، حجاج کرام ! آپ لوگ وہاں موجود ہیں جہاں رحمتوں کا نزول ہو رہا ہے، حجاج کرام دعا میں مشغول رہیں، سب کیلئے دعائیں کریں، نبی کریمؐ نے بچوں کے ساتھ رحم دلی کی تلقین فرمائی۔

دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ ان پٹ کے ساتھ