عمران خان نے کہا: پاکستان میں سرگرم 40 دہشت گرد تنظیمیں، گزشتہ حکومت نے چھپائی جانکاری

امریکی دورے پر گئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں 40 دہشت گرد تنظیمیں چل رہی تھیں۔ اس کی اطلاع پہلے کی حکومتوں نے امریکہ کو نہیں دی۔

Jul 24, 2019 10:57 AM IST | Updated on: Jul 24, 2019 11:52 AM IST
عمران خان نے کہا: پاکستان میں سرگرم 40 دہشت گرد تنظیمیں، گزشتہ حکومت نے چھپائی جانکاری

امریکی دورے پر گئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں 40 دہشت گرد تنظیمیں چل رہی تھیں۔ اس کی اطلاع پہلے کی حکومتوں نے امریکہ کو نہیں دی۔ گزشتہ 15 سال سے پاکستان امریکہ کو گمراہ کرتا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہم امریکہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف لڑائی لڑ رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا 9/11 سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پاکستان میں طالبان نہیں ہیں لیکن ہم نے جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔ جب چیزیں خراب ہوئیں تو میں نے حکومت کی تنقید کی لیکن ہم سے پہلی حکومتوں نے امریکہ کو زمینی حقیقت کے بارے میں نہیں بتایا۔

دہشت گردی پر عمران خان کیوں بدل رہے ہیں سر؟

Loading...

عمران خان کانگریس کی شیلا جیکسن  لی کے زیر اہتمام منعقد رسیپشن کو خطاب کر رہے تھے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے اندر 40 دہشت گرد تنظیمیں چل رہی تھیں۔ وہ اتنا خراب دور تھا کہ پاکستان کے لوگ سوچ رہے تھے کیا ہم اپنا وجود بچائے رکھ پائیں گے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں امریکہ ہم سے زیادہ ساتھ کی امیدر رکھ رہا تھا اور اسی وقت پاکستان اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا۔

pakistan prime minister imran khan says 40 militant groups were operating in pakistan

پاکستان میں پل رہے دہشت گرد گروپوں اور حکومت کے ذریعے انہیں پناہ دئے جانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم کا اس بات کو قبول کرنا کہ پاکستان میں دہشت گرد تنظیمیں چلائی جارہی ہیں یہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ پوری دنیا کے سامنے عمران خان کا یہ قبول کرنا دہشت گردی پر پاکستان کے اپنے ہی اسٹینڈ کی پول کھونے والا ہے۔

امریکی دورے پر گئے عمران خان اپنے اس بیان کے ذریعے یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ پاکستان پر اس کی ہی حکومت کا کنٹرول نہیں رہا تھا۔ اب وہ امریکہ کے ساتھ بہتر رشتے بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کو اپنے یہاں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پتہ تھا۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے ہی امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اس کے بارے میں اطلاع دی جس کے بعد امریکہ القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن تک پہنچا۔ پاکستان کے پی ایم عمران خان کا یہ تبصرہ پاکستان کے آفیشیل موقف کے الٹ ہے۔ پاکستان نے آفیشیل طور پر یہ قبول کیا ہے کہ 2 مئی 2011 کو پاکستان کے ایٹا باد میں امریکی سیل نے جب اسامہ کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اسے مار گرایا تھا تب تک پاکستان کو اسامہ کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی۔ اب عمران خان کا اس کے الٹ بیان دینا پاکستان کے اپنے ہی پرانے بیان سے پلٹنا ہے۔

Loading...