مراکش میں پورے چہرے کے برقع کی فروخت اور تیاری پر پابندی– News18 Urdu

مراکش میں پورے چہرے کے برقع کی فروخت اور تیاری پر پابندی

مراکش کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک بھر کی فیکٹریوں کو پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی تیاری بند کرنے کے جبکہ دکانوں کو اس طرح کے برقعے کی فروخت بند کر دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

Jan 11, 2017 05:28 PM IST | Updated on: Jan 11, 2017 05:28 PM IST

مراکش : مراکش کے مقامی میڈیا کے مطابق ملک بھر کی فیکٹریوں کو پورے چہرے کو ڈھانپنے والے برقعے کی تیاری بند کرنے کے جبکہ دکانوں کو اس طرح کے برقعے کی فروخت بند کر دینے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ مراکش کی وزارتِ داخلہ نے سلامتی کے خدشات کو اپنےان احکامات کی وجہ قرار دیا ہے۔ تاہم ابھی تک مراکش کی حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر ایسا کوئی اعلان جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ میڈیا کے مطابق یہ نئے احکامات اگلے ہفتے سے نافذ العمل ہو جائیں گے۔

نیوز ویب سائٹ لی 360 نے وزارتِ داخلہ کے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ سلطنت کے تمام شہروں اور قصبوں میں اس لباس کی امپورٹ، مینوفیکچرنگ اور مارکیٹنگ پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے اس اقدام کے جواز کے طور پر سلامتی کی وجوہات کا ذکر تے ہوئے کہا کہ ڈاکوؤں نے بار بار اس لباس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے جرائم کو چھُپانے کی کوشش کی ہے‘۔

مراکش میں پورے چہرے کے برقع کی فروخت اور تیاری پر پابندی

واضح رہے کہ مراکش میں بہت ساری خواتین سر پر ایک ایسا اسکارف پہننے کو ترجیح دیتی ہیں، جو چہرے کو نہیں ڈھانپتا ۔ مگر خواتین کی ایک بڑی تعداد ایسا نقاب بھی پہنتی ہیں، جس میں باقی سارا چہرہ چھُپا ہوتا ہے اور صرف آنکھیں ہی نظر آتی ہیں۔

مراکو ورلڈ نیوز کے مطابق مراکش کے متعدد سیاسی کارکنوں اور سیاستدانوں نے کہا ہے کہ انہیں اس حکومتی اقدام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ تاہم مسلم تنظیموں نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حماد کباج نے اس بات کو غیر منصفانہ قرار دیا کہ خواتین کے برقع پہننے پر تو پابندی لگائی جا رہی ہے جبکہ بکنی جیسے مغربی لباس کے پہننے کو ایک ناقابلِ تردید حق کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

Loading...

Loading...