سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی قرار دیا– News18 Urdu

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی قرار دیا

پاکستان کی عدالت عظمٰی نے آج کثیر رکنی بینچ کے ذریعہ فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی قرار دیا۔

Aug 05, 2015 05:32 PM IST | Updated on: Aug 05, 2015 05:33 PM IST

اسلام آباد : پاکستان کی عدالت عظمٰی نے آج کثیر رکنی بینچ کے ذریعہ فیصلہ سناتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی قرار دیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فل بینچ میں شامل ججوں میں سے 11 نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں جب کہ 6 ججوں نے مخالفت میں فیصلہ دیا۔واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل کے تحت اکیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد ملک بھر میں نو فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں جن سے دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث 6 مجرموں کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔لیکن فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے رواں سال اپریل میں فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ کی 17 رکنی بینچ میں شامل 14 ججوں نے آئینی ترمیم کے حق میں فیصلہ لکھا، جب کہ تین ججوں نے اس سے اختلاف کیا۔اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے حوالے سے عدالتی کمیشن کی سفارشات کو منظور یا مسترد کرنے کا اختیار ایک پارلیمانی کمیٹی کو دیا گیا تھا، بعض آئینی و قانونی ماہرین کے ماننا تھا کہ یہ اقدام عدلیہ کی آزادی پر قدغن لگانے کے مترادف ہے۔ججوں کی تقرری سے متعلق اسی طریقہ کار اور اس میں پارلیمنٹ کے کردار کے بارے میں آئینی درخواست میں سوالات اٹھائے گئے تھے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل سمیت متعدد وکلا تنظیموں کی طرف سے اکیسویں آئین ترمیم کے تحت بنائی گئی فوجی عدالتوں کے قیام کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ ملک کے آئین میں فوجی عدالتوں کے قیام کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ اقدام ایک متوازی عدالتی نظام کے مترادف ہے۔پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے درمیان تفصیلی مشاورت کے بعد رواں سال کے اوائل میں پارلیمان نے اکیسویں آئین ترمیم اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری دی تھی، جس کے تحت ملک بھر میں 9 فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیےفوجیں عدالتیں صرف دو سال کے لیے قائم کی گئی ہیں اور ان میں چلائے جانے والے مقدمات کے دوران ملزمان کو اپنی صفائی پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے گا۔واضح رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دسمبر 2014ء میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے اتفاق رائے سے انسداد دہشت گردی کےایک قومی لائحہ عمل کی منظوری دی تھی۔اس لائحہ عمل کے تحت آئینی ترمیم کے ذریعے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔پشاور اسکول پر دہشت گردی حملے کے بعد پاکستان میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی سزاؤں پر عمل درآمد پر عائد پابندی بھی ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد سے اب تک عدالتوں سے سزائیں پانے والے لگ بھگ 200 مجرموں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کو قانونی قرار دیا