Pakistan Supreme Court acquits christian woman Asia Bibi facing death for Blasphemy– News18 Urdu

توہین مذہب معاملہ میں آسیہ بی بی کی سزائے موت منسوخ

فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر آسیہ بی بی کسی دوسرے مقدمے میں ملوث نہیں تو انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے

Nov 01, 2018 10:41 AM IST | Updated on: Nov 01, 2018 10:58 AM IST

 پاکستان سپریم کورٹ نے توہین مذہب کے الزام میں قید مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی سزائے موت کے فیصلے کو کل منسوخ کردیا۔ دوسری طرف اس فیصلے کے خلاف ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق پاکستانی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے توہین مذہب کے قانون کے تحت موت کی سزا کی منتظر آسیہ بی بی کی سزا ختم کرنے کا فیصلہ سنایا ۔ انہوں نے آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم بھی دیا ۔ فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگر آسیہ بی بی کسی دوسرے مقدمے میں ملوث نہیں تو انہیں فوری طور پر جیل سے رہا کیا جائے۔

آسیہ بی بی کی اپیل کی سماعت پاکستانی سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کی تھی اور اس بنچ کے سربراہ پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار تھے۔ اْن کے ساتھ دوسرے دو ججوں میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل تھے۔ سزائے موت کے خلاف اپیل پر فیصلہ آٹھ اکتوبر کو محفوظ کر کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے میں کہا کہ’ یہ قانون کا ایک بنیادی اصول ہے کہ دعویٰ کرنے والے کو الزامات ثابت کرنے ہوتے ہیں، لہٰذا یہ استغاثہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقدمے کی سماعت کے دوران شک کے بجائے ملزم پر الزمات ثابت کرے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ’ ملزم کو اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے جب تک استغاثہ ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر مدعی کی جانب سے ملزم پر لگائے گئے الزمات پرعدالت کو مطمئن کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا‘۔

توہین مذہب معاملہ میں آسیہ بی بی کی سزائے موت منسوخ

تصویر: اے ایف پی

چیف جسٹس نے فیصلے میں مزید کہا کہ ’ مدعی کی جانب سے مبینہ توہین مذہب کے الزام میں پیش کردہ ثبوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی کہ استغاثہ شک و شبہ سے بالاتر ثبوت پیش کرنے میں یکسر ناکام رہا‘۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ’توہین رسالت ایک سنگین نوعیت کا جرم ہے، اگر شکایت کنندہ نے آسیہ بی بی کے مذہب کی توہین کی تو یہ بھی توہین مذہب میں آتا ہے‘۔اضافی نوٹ میں انہوں نے تحریر کیا کہ’ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نام پر جھوٹ بولنا بھی کم توہین نہیں، قرآن پاک کہتا ہے کہ سچ کو جھوٹ سے نہ ملایا جائے‘۔

دوسری جانب آسیہ بی بی کے وکیل سیف الملوک نے کہا کہ ’اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوتاہیوں کے باوجود اس ملک میں غریب، اقلیتوں اور نچلے گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں کو انصاف مل سکتا ہے اور آج کا دن میری زندگی کا سب سے بڑا اور خوشی کا دن ہے‘۔فیصلے کے بعد آسیہ بی بی نے میڈیا سے کہا کہ ’ مجھے یقین نہیں ہورہا کہ میں کیا سن رہی ہوں، کیا میں باہر جاسکتی ہوں؟ کیا واقعی یہ لوگ مجھے باہر لے کر جائیں گے، مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ میں کیا کہوں، میں بہت خوش ہوں‘۔

Loading...

آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’میں اور میرے بچے بہت خوش ہیں اور ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور ججوں کے مشکور ہیں کہ انہوں نے ہمیں انصاف دیا‘۔

Loading...