نیویارک بم دھماکہ کے مشتبہ کی اہلیہ سے پوچھ گچھ

امریکہ کے نیویارک میں ہوئے پائپ بم دھماکے کے مشتبہ عقائد اللہ کی اہلیہ سے بنگلہ دیش کی پولیس انتہائی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

Dec 13, 2017 05:29 PM IST | Updated on: Dec 13, 2017 05:29 PM IST

ڈھاكہ : امریکہ کے نیویارک میں ہوئے پائپ بم دھماکے کے مشتبہ عقائد اللہ کی اہلیہ سے بنگلہ دیش کی پولیس انتہائی پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ بنگلہ دیش کے ایک سینئر پولیس افسر نے نام نہیں لکھے جانے کی شرط پر پر آج بتایا کہ عقائد اللہ جوڑے کو چھ سالہ ایک بچہ ہے۔ حالانکہ انہوں نے پوچھ گچھ کے بارے میں تفصیل سے کچھ بھی بتانے سے انکار کردیا۔ اس افسر نے رائٹرکو بتایا کہ، "ہمیں اسكی بیوی اور سسرال کے لوگ ڈھاکہ میں ملے۔ ہم ان سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں. "

قابل غور ہے کہ امریکہ کے نیویارک میں کل صبح سات بجے بنگلہ دیشی عقائد اللہ نے خود کش حملے کی کوشش کی۔ اس حملے میں وہ شدیدطور سے جھلس گیا جبکہ تین دیگر افرادکو معمولی چوٹیں آئی ہیں۔ نیویارک کے میئر بل ڈے بلاسكو نے اسے ایک دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔ بنگلہ دیش پولیس اور انتظامیہ امریکہ کے نیویارک میں کل خود کش حملے کی خبر آنے کے فورا بعد ہی ملزم بنگلہ دیشی عقائد اللہ کے خاندان کے اراکین، دور کے رشتہ داروں اور ساتھیوں کی تلاش میں لگ گئی تھی۔ جنوبی بنگلہ دیش میں چٹاگانگ ڈویژن میں ایک مقامی سرکاری بلدیہ موسیٰ پور مرکزی کونسل کے صدر ابوالخیر ندیم نے بتایا کہ پولیس اس کے خاندان کے ممبران کی تلاش کر رہی ہے.عقائد اللہ کا خاندان بنیادی طور پر یہیں رہتا تھا۔ بنگلہ دیش پولیس کے سربراہ نے رائٹر کو بتایا کہ 27 سالہ عقائد اللہ کا اپنے ملک میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے. وہ آخری بار ستمبر میں یہاں آیا تھا۔

نیویارک بم دھماکہ کے مشتبہ کی اہلیہ سے پوچھ گچھ

نیویارک میں بنگلہ دیش کے قونصل جنرل شمیم احسان نے کہا کہ عقائد اللہ بروک لین میں اپنی ماں، بہن اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتا تھا. وہ ایک گرین کارڈ ہولڈر تھا.عقائداللہ کے ایک رشتہ دار احمد اللہ نے رائٹر کو بتایا کہ اس کے کزن کے والد اپنے خاندان کے ساتھ کئی سال پہلے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ چلے گئے تھے. انہوں نے کہا کہ عقائد اللہ کے والد کا تقریبا پانچ سال پہلے انتقال ہو گیا تھا. امریکہ آنے سے پہلے عقائد اللہ نے بنگلہ دیش میں ایک عام پبلک اسکول تعلیم حاصل کی تھی۔ چیک آؤٹ کی تفصیلات رکھنے والے ایک افسر نے بتایا کہ تفتیش کاروں کو پتہ چلا ہے کہ عقائد اللہ نے انٹرنیٹ پر آئی ایس کے پرچار کو دیکھا تھا. بنگلہ دیش نے اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا، "دہشت گرد چاہے جس مذہب یا ذات کو ہو وہ دہشت گرد ہے ۔اس عدالتی کٹہرے میں لایا جانا چاہئے."امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واقعہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس حملہ کے بعد اپنے ملک کے امیگریشن قانون میں بہتری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز