ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

دبئی۔ ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجاني کا دل کا دورہ پڑنے سے دارالحکومت تہران کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔

Jan 09, 2017 11:34 AM IST | Updated on: Jan 09, 2017 11:36 AM IST

دبئی۔  ایران کے سابق صدر اکبر ہاشمی رفسنجاني کا دل کا دورہ پڑنے سے دارالحکومت تہران کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ 82 سال کے تھے۔ ایرانی دارالحکومت تہران سے آٹھ جنوری کی شام ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کو شام دل کا دورہ پڑنے کے بعد فوری طور پر ایک مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کی پوری کوشش کی لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ایرانی نیوز ایجنسیوں اِسنا، تسنیم اور فارس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ 82 سالہ اکبر ہاشمی رفسنجانی کا دل کا دورہ پڑنے کے بعد تہران کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔

ہاشمی رفسنجانی 1979ء میں آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد سے عشروں تک ایرانی سیاست پر اثر انداز ہونے والی ایک بہت طاقت ور سیاسی اور مذہبی شخصیت تھے۔ وہ 1989ء سے لے کر 1997ء تک ایران میں ملکی صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے تھے۔

ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

تصویر: انڈین ایکسپریس

آج کے ایران میں بھی ہاشمی رفسنجانی ایک بہت بااثر مذہبی رہنما تھے اور وہ اس شوریٰ مصالحت کے سربراہ تھے، جو ملکی پارلیمان اور شوریٰ نگہبان کہلانے والے اعلیٰ ترین مذہبی ادارے کے مابین اختلافات پیدا ہو جانے کی صورت میں مصالحتی کوششیں کرتی ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم نے ہاشمی رفسنجانی کے بھائی محمد ہاشمی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اتوار آٹھ جنوری کی شام اچانک دل کا دورہ پڑنے سے پہلے تک اس ایرانی رہنما کی صحت بالکل ٹھیک تھی۔ اسلامی جمہوریہ ایران میں ہاشمی رفسنجانی کی حیثیت ایک ’بادشاہ گر‘ کی سی تھی اور وہ بہت سے زیر و بم کا شکار ملکی سیاست میں جملہ مسائل کا کوئی نہ کوئی قابل قبول حل نکال لیا کرتے تھے۔

Loading...

گزشتہ صدراتی انتخابات میں جب موجودہ صدر حسن روحانی بھی ایک انتخابی امیدوار تھے، ہاشمی رفسنجانی نے زیادہ قدامت پسند امیدوار کے مقابلے میں اصلاحات پسند سمجھے جانے والے حسن روحانی کی حمایت کی تھی۔ وہ آخر دم تک حسن روحانی کے سیاسی حلیف تصور کیے جاتے تھے۔ ہاشمی رفسنجانی کو گزشتہ برس مارچ میں اس مذہبی مجلس کا رکن بھی منتخب کر لیا گیا تھا، جسے مستقبل میں کسی دن موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب کرنا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز