موصل کی تاریخی النوری مسجد پرعراقی فوج کا قبضہ ، داعشی خلافت کے اختتام کا اعلان

Jun 29, 2017 06:52 PM IST | Updated on: Jun 29, 2017 06:53 PM IST

موصل: شمالی عراق کے شہر موصل میں اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے جنگجوؤں کے خلاف گزشتہ آٹھ مہینے کی جدو جہد کے بعد امریکی حمایت یافتہ عراقی فوجی دستوں نے آج شہر کی تاریخی النوری مسجد پر قبضہ کرلیا جس کو حال ہی میں داعش کے جنگجوؤں نے دھماکہ کرکے منہدم کردیا تھا۔ یہ اطلاع عراقی فوج کے ایک بیان میں دی گئی ہے۔ یہ وہی تاریخی جامع مسجد ہے جہاں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی نے اپنی خودساختہ خلافت کا اعلان کیا تھا۔

عراقی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ موصل کی یہ طویل جنگ آئندہ چند دنوں میں ختم ہوجائے گی، جہاں اب اسلامک اسٹیٹ (داعش) کے جنگجوؤں قدیم شہر کے کچھ علاقوں میں محصور کرلیا گيا ہے۔ فوج کے بیان میں کہا گيا ہے کہ عہد وسطی کی 850 سال قدیم جامع النوری پر قبضہ کرنا موصل میں عراقی فوج کی فتح کی علامت ہے، جہاں عراقی فوجی دستے گزشتہ آٹھ ماہ سے برسرپیکار تھے۔ شمالی عراق کا یہ شہر اسلامک اسٹیٹ (داعش) کی راجدھانی شمار کیا جاتا تھا۔

موصل کی تاریخی النوری مسجد پرعراقی فوج کا قبضہ ، داعشی خلافت کے اختتام کا اعلان

داعش کے جنگجوؤں نے ایک ہفتہ قبل عہد وسطی کی اس تاریخی مسجد کو دھماکہ سے منہدم کردیا تھا۔ اس مسجد پر جون 2014 سے داعش کا سیاہ پرچم لہرایا ہوا تھا۔ عراقی فوج کے ایک ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحی رسول نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ " دہشت گردوں کی نام نہاد خلافت کا مکمل سقوط ہوگيا ہے"۔ عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ "انہوں نے موصل کی جنگ کو اپنے انجام تک پہنچانے کے احکامات دیئے ہيں"۔

موصل کا سقوط عراق میں داعشی خلافت کے خاتمے کی علامت ہے۔ اگرچہ داعش کے جنگجو موصل شہر کے جنوبی اور مغربی علاقوں میں موجود ہیں۔ شام میں داعش کی راجدھانی الرقہ کو بھی امریکی حمایت یافتہ کرد اتحاد کے جنگجوؤں نے محاصرہ کررکھا ہے۔ موصل کی جنگ میں اگرچہ عراقی فوج کو طویل جد و جہد کے بعد کامیابی حاصل ہوئی ، لیکن یہ جنگ بے پناہ مہنگی ثابت ہوئی ہے، جس میں کثیر فوجی ہلاکتوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کی موت ہوئی ہے۔

ایک امدادی گروپ کے مطابق جنگ سے قبل شہرکی آبادی کا نصف حصہ تقریبا 9 لاکھ افراد نے لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی کیا ہے، جن میں بیشتر عارضی کیمپوں پناہ لئے ہوئے ہیں، یا دوسرے شہروں اور ملکوں میں اپنے احباب رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں اور جولوگ شہر میں پھنس گئے وہ یا تو زخمی ہوگئے یا فاقہ کشی کا شکار ہوئے ہیں اور شہر میں بیشتر مکانات کھنڈروں میں تبدیل ہوگئے ہيں۔

امریکی تربیت یافتہ عراقی فوجی یونٹس کےایک کمانڈر نے سرکاری ٹی وی پر کہا کہ کاؤنٹر ٹیررزم سروس (سی ٹی ایس) کے دستوں نے جمعرات کو جامع النوری کے گراؤنڈ پر قبضہ کرلیا ہے، جس کو ایک ہفتہ پہلے دھماکہ سے منہدم کردیا گيا تھا۔ سی ٹی ایس کے دستوں اب آس پاس کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے اور وہ مزید آگے پیش قدمی کررہے ہیں۔

قدیم شہر میں بقیہ داعشی جنگجوؤں کے خلاف عراقی فوجی دستوں کو امریکی اتحادی افواج فضائی و زمینی تعاون دے رہی ہیں۔ لیکن یہ پیش قدمی کافی دشوار ثابت ہورہی ہے، کیونکہ داعشی جنگجو عام شہریوں کے درمیان چھپ گئے ہيں اور وہ مارٹر، خودکار ہتھیاروں اور خودکش بمباروں کا استعمال کررہے ہیں۔ عراقی فوج نے گزشتہ ہفتہ شہر میں 350 داعشی جنگجوؤں کے چھپےہونے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا، لیکن ان میں سے متعدد جنگجو ابھی تک ہلاک ہوگئے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز