موصل میں داعش پر فتح کا چند گھنٹہ میں اعلان ہوسکتا ہے:عراقی ٹی وی

Jul 08, 2017 06:26 PM IST | Updated on: Jul 08, 2017 07:12 PM IST

موصل (عراق)۔  سرکاری ٹی وی نے آج خبر دی ہے کہ داعش (آئی ایس) کے دفاعی مورچے ٹوٹ گئے ہیں اور اب چند ہی گھنٹے کے اندر عراقی سلامتی دستے موصل کا مکمل کنٹرول سنبھال لیں گے۔ رائٹر کے ٹی وی عملہ نے یہ خبر دی ہے کہ جنگی جہازوں پر توپخانہ نے شہر میں جہادیوں کے آخری گڑھ پر زبردست گولے برسائے ہیں ۔ آسمان میں کالا دھواں اٹھتا نظر آرہا ہے۔ دریائے دجلہ کے پرانے موصل شہر میں داعش کے گڑھ میں لڑنےو الے سلامتی دستوں کے ساتھ موجود ٹی وی چینل کے نامہ نگاروں کے حوالے سے ایک ٹی وی اسپیکر نے کہا ہم تھوڑی دور رہ گئے ہیں۔ جلد ہی حتمی فتح کا اعلان کردیا جائے گا۔ بس چند گھٹنے کی بات ہے۔

ٹی وی نے ایک فوجی ترجمان کے حوالے سے کہا ہے کہ باغیوں کے دفاعی مورچے ٹوٹ گئے ہیں۔ عراقی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ باغی ایک ایک انچ کے لئے جان کی بازی لگا رہے ہیں۔ اس کے لئے وہ اسنپر گرینیڈ ، اور خودکش بمباروں کا استعمال کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے سلامتی دستوں کو تنگ گلیوں میں گنجان آبادی کے درمیان گھر گھر لڑنا پڑ رہا ہے۔

موصل میں داعش پر فتح کا چند گھنٹہ میں اعلان ہوسکتا ہے:عراقی ٹی وی

تصویر: الجزیرہ ڈاٹ کام

امریکی قیادت والا اتحاد موصل جو کبھی عراق میں داعش کی راجدھانی تھی واپس چھینے کے لئے 8 ماہ سے جاری لڑائی میں فضائی اور بری مدد کررہا ہے۔ امدادی تنظیموں کے مطابق مہینوں کی شدید لڑائی میں 9 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں شہر کی جنگ سے قبل کی آبادی کا نصف ہے، ہزاروں لوگ مارے گئے ہیں۔ موصل اب تک سب سے بڑا شہر ہے جس میں تین سال قبل ہوئے حملہ کرکے داعش نے قبضہ کرلیا تھا، کئی اسلامی گروپ نے عراق اور شام کے قریبی علاقوں کو ملا کر خلافت قائم کی تھی۔ موصل کے چھن جانے کے بعد عراق میں داعش کا قبضہ صرف مغرب اور جنوب کے دیہی اور ریگستانی علاقہ میں رہ جائے گا، اندیشہ ہے کہ جنگجو عراق بھر میں چنندہ ٹھکانوں پر حملے کرتے رہیں گے۔

وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک ہفتہ قبل سلامتی دستوں کے موصل کی عہد وسطی کی عظیم نوری مسجد پر قبضہ کے بعد داعش کے خاتمہ کا اعلان کردیا تھا، حالانکہ جنگجوؤں نے  پسپائی سے قبل اسے دھماکہ سے اڑا دیا تھا۔ اقوام متحدہ نے پیشین گوئی کی ہے کہ موصل میں بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر پر ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ آئے گا۔ عراق کے علاقائی کرد لیڈر نے جمعرات کو رائٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ بغداد سینٹرل گورنمنٹ جنگ کے بعد کے سیاستی سلامتی اور حکمرانی کا منصوبہ تیار نہیں کرسکے گا۔ حملوں سے پرانے شہر میں ہزاروں عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ 500 عمارتیں بری طرح تباہ ہوچکی ہیں۔

سیٹلائٹ کی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ بری طرح متاثرہ علاقوں میں کوئی بھی عمارت تباہ ہونے سے نہیں بچی ہے۔ موصل کی گنجان تعمیرات کا مطلب ہے کہ تباہی کا غالبا پورا اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز