عراق میں فضائی حملوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کے اہم لیڈر الجومیلی کی موت کا دعوی

Apr 02, 2017 11:54 AM IST | Updated on: Apr 02, 2017 11:54 AM IST

بغداد : عراقی خفیہ ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ یہاں اسی ہفتے ہوئے امریکی فضائی حملوں میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ (آئی ایس) کے ایک اہم لیڈر اياد االجومیلي ہلاک ہوگیا ہے۔ امریکی قیادت میں اتحادی فوج نے اگرچہ ایک بیان میں کہا کہ ابھی تک تصدیق کے طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے لیکن عراقی میڈیا میں الجومیلي کے مارے جانے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ عراقی خفیہ ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ جومیلی کے علاوہ آئی ایس کے دیگر کمانڈر بھی فضائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔

عراق کے سرکاری ٹیلی وژن نے ہفتے کے روز عراقی فوجی انٹیلی جنس کے حوالے سے بتایا کہ الجومیلی کی ہلاکت شام کے ساتھ سرحد کے قریب ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراقی فضائیہ نے شام کی سرحد کے قریب القائم کے علاقے میں اپنے اہداف پر حملے کیے جس میں ایاد الجومیلی اسلامک اسٹیٹ کے دوسرے کمانڈروں کے ساتھ مارا گیا۔ تاہم اس حملے کی تاریخ اور دوسری تفصیلات کے متعلق کچھ نہیں کہا گیا۔ جاری۔ رائٹر۔ س ا

عراق میں فضائی حملوں میں دہشت گرد تنظیم داعش کے اہم لیڈر الجومیلی کی موت کا دعوی

فائل فوٹو

عراقی ٹیلی وژن کاکہنا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ میں ایاد کی حیثیت ابوبکر بغدادی کے بعد دوسرے نمبر پر تھی اور وہ وزیر جنگ کے عہدے پر تعینات تھا۔ اس سلسلے میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف امریکی قیادت کے فوجی اتحاد کے کمانڈر سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہوسکا۔

عراقی فورسز، جنہیں امریکی قیادت کے اتحاد کی مدد حاصل ہے، عراق میں اسلامک اسٹیٹ کے مضبوط گڑھ موصل کا قبضہ واپس لینے کے لیے جنگ لڑ رہی ہیں ۔ یہ وہ شہر ہے جہاں تقریباً تین سال پہلے ابوبکر بغدادی نے اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ لڑائیوں سے بچنے کے لیے ہزاروں پناہ گزین موصل چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا بغدادی ابھی تک موصل میں موجود ہیں لیکن امریکی اور عراقی عہدے داروں کا خیال ہے کہ وہ موصل کی کمانڈ اپنے ساتھیوں کو سونپ کر صحرا میں روپوش ہو گئے ہیں۔ ادھر شام میں اسلامک اسٹیٹ کو اس کے مضبوط گڑھ رقہ سے نکالنے کے لیے ایک اور جنگ کی تیاریاں جاری ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز