داعش نے فلپینی نرسوں کو لیبیا میں طبی تربیت دینے پر مجبور کیا

Feb 28, 2017 02:34 PM IST | Updated on: Feb 28, 2017 02:34 PM IST

طرابلس۔  داعش کی قید میں لیبیا میں ایک فلپنی نرس نے آج بتایا کہ اسے اور اسکے ساتھیوں کو جنگجوؤں کا علاج کرنے اور انہیں طبی تربیت دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔ یہ نرس سات خواتین اور ایک مرد اور 10 ماہ کے بچے پر مشتمل ایک گروپ کا حصہ ہے جسے لیبیا سے فلپائن لایا جارہا ہے ۔انہیں پچھلے سال اس وقت سرت شہر سے آزاد کرایا گیا تھا جب مقامی فورسیز نے وہاں سے داعش (آئی ایس) کو باہر نکال دیا تھا۔ داعش نے 2015 کے آغاز میں سرت پر پوری طرح قبضہ کرلیا تھا اور اسے شمالی افریقہ کا اپنا گڑھ بنالیا تھا۔ وہاں درجنوں غیر ملکی یرغمال بناکر رکھے گئے تھے۔ فلپنی شہری طبی عملہ کا حصہ تھے جب داعش نے وہاں اپنی حکومت چلائی تو بہت سے غیر ملکی کارکن وہاں موجود تھے۔ نرسوں نے لیبیاکی راجدھانی طرابلس میں بتایا کہ جب انہیں پتہ چلا کہ ہم مسلمان ہیں تو انہوں نے ہمیں رہا کر دیا مگر اس شرط پر کہ ہمیں ان کے ہسپتال میں نرس کے بطور کام کرنا ہوگا اور داعش کے لوگوں کو ہنگامی طبی امداد اور نرسنگ کی تربیت دینی ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بہت ہولناک زمانہ تھا۔ ہم ہر دن خوف کے سائے میں گزارتے تھے۔ ہمیں پتہ نہیں ہوتا تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ انہوں نے ہمیں دھمکی دی تھی کہ اگر ہم نے سرت سے باہر قدم نکالا  تو ہمیں قتل کردیں گے۔ فلپنی عملے نے سرت کے بڑے ہسپتال میں کام کیا جہاں وہ اپنے زخمی لڑاکوں کا علاج کراتے تھے۔ مگر اگست میں انہیں اس شہر سے بے دخل کردیا گیا اس کے بعد وہ سرت کے نزدیک ایک مقا م پر رہنے لگے۔ یہ ان کا آخری ٹھکانہ تھا۔ وہ طبی آلات اور غیر ملکی یرغمالوں کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ آخر کار سات ماہ کی لڑائی کے بعد دسمبر کے آغاز میں انہیں سرت میں شکست دی تھی۔ لڑائی کے آخری مرحلے میں فلپنی طبی عملہ اور کئی دیگر غیر ملکی یرغمالوں کو رہا کرایا گیا ۔ تب سے یہ لوگ مصرانہ میں تھے۔ ان کے ساتھ ہی صحرائی افریقہ کی درجنوں خواتین کو بھی آزا د کیا گیا جنہیں مہاجروں کے بطور لیبیا پار کرتے وقت پکڑ لیا گیا تھا اور سرت میں غلام بناکر رکھا گیا تھا۔

داعش نے فلپینی نرسوں کو لیبیا میں طبی تربیت دینے پر مجبور کیا

آئی ایس آئی ایس: فائل فوٹو

اس ماہ کے اوائل میں ایک ہندستانی ڈاکٹر راما مورتی کو سانم کو جو سرت میں پھنسا ہو اتھا ، وہاں سے نکالا گیا۔

اس نے کل بتایا کہ اس نے ڈھائی ماہ تک داعش کے چلائے ہوئے عارضی ہسپتالوں میں کام کیا۔ لڑائی کے دوران اس کے ہاتھ اور دونوں ٹانگوں میں گولیاں لگی تھیں پھر مقامی لیبیائی لڑاکوں سے انہیں بچالیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز