مصری سلامتی دستوں نے شمالی سینائی میں داعش کے ممتاز جنگجو کو ہلاک کردیا

Jul 19, 2017 08:30 PM IST | Updated on: Jul 19, 2017 08:30 PM IST

قاہرہ۔  مصری سلامتی دستوں نے شمالی سینائی میں ہوئے حالیہ حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں داعش کے ایک ممتاز جنگجو کو ہلاک کردیا ہے۔ یہ بات وزارت داخلہ کے بیان میں بتائی گئی۔ مصر کے سینائی میں بغاوت جاری ہے اس میں 2013 سے اب تک سینکڑوں فوجی اور پولیس والے مارے جا چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی دستوں نے سینائی کے شہرعارش میں زیر تعمیر عمارت پر حملہ کردیا جہاں جنگجووں نے اپنی کارروائیوں کا بیس بنا رکھا تھا۔ لڑائی شروع ہونے پر گروپ کا ایک لیڈر احمد حسن احمد الناشو مارا گیا جو غندور المصری کے نام سے بھی جانا جاتا تھا جبکہ ایک جنگجو فرار ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غندور کئی وارداتوں کو انجام دینے اور سینائی کی تنظیم انصار بیت المقدس کے لئے بھرتیاں کرنے کا ذمہ دار تھا ۔ اس تنظیم نے 2014 میں داعش سے وفاداری کا عہد کرلیا تھا۔ وزارت داخلہ نے آج بتایا ہے کہ پولیس نے راجدھانی کے نواح میں فائرنگ کے دوران حسم تحریک کے دو ممتاز ممبران کو ہلاک کردیا ہے جس نے پچھلے سال قاہرہ میں کئی حملوں کا دعویٰ کیاتھا۔ مصر میں اس ماہ اس کے سلامتی دستوں پر بدترین حملہ ہوا تھا جب شمالی سینائی میں دوخودکش کار بموں کے پھٹنے کے بعد 23 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

مصری سلامتی دستوں نے شمالی سینائی میں داعش کے ممتاز جنگجو کو ہلاک کردیا

علامتی تصویر

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز