سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اسرائیل کے دورہ کی دعوت ، امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے سعودی عرب

اسرائیلی وزیر برائے انٹیلی جنس اسرائیل کاٹز نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل میں سعودی عرب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

Dec 14, 2017 05:37 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 05:38 PM IST

تل ابیب : اسرائیلی وزیر برائے انٹیلی جنس اسرائیل کاٹز نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل میں سعودی عرب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ اسرائیلی وزیر برائے ٹرانسپورٹیشن اور انٹیلی جنس اسرائیل کاٹز نے عرب نیوز ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ علاقائی امن چاہتے ہیں، اسرائیل فلسطین امن عمل کو آگے بڑھانے میں سعودی عرب کا کردار کلیدی ہوسکتا ہے اور یہ امن عمل میں اپنا کردار ادا کرنے کا بہترین موقع بھی ہے۔

اسرائیل کاٹز نےکہا کہ فلسطینی بہت کمزور ہیں اور انھیں سہارے کی ضرورت ہے، سعودی عرب، عرب دنیا کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع میں قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے، وہ تنازعات کے حل کے لئے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو اسرائیل کے دورے کی دعوت دیتے ہیں جواب میں سعودی شاہ سلمان اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سرکاری طور پر ریاض آنے بھی دعوت دیں۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اسرائیل کے دورہ کی دعوت ، امن عمل میں اپنا کردار ادا کرے سعودی عرب

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

واضح رہے کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور سعودی حکومت اصولی طور پر فلسطین کے موقف کی تائید کرتا ہے۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے کسی قسم کے تعلقات صرف اسی صورت قائم ہو سکتے ہیں کہ اسرائیل سنہ انیس سو اڑسٹھ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں کو خالی کر دے۔

تاہم ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بہت سے تجزیہ کاروں کے خیال میں ایران سے مشترکہ دشمنی کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل میں اشتراک پیدا ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ دنوں میں ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ عرب ملکوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے حزب اللہ سمیت مختلف جنگجو گروپوں کو استعمال کر رہا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز