اسرائیل ایک قابض اور دہشت گرد ریاست ہے، ہم مسلمانوں کے خلاف مزید مظالم برداشت نہیں کر سکتے: اردوغان

ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ اس سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب اور پاکستان سمیت پچاس اسلامی ملکوں کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔

Dec 14, 2017 12:14 PM IST | Updated on: Dec 14, 2017 12:14 PM IST

استنبول۔  امریکہ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس( یروشلم)  کو اسرائیل کی راجدھانی کے طور پر تسلیم کرنے کے مسئلہ پر کل یہاں پچاس سے زائد مسلم ملکوں کی سربراہی کانفرنس ہوئی جس میں  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مشرقی یروشلم کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ ترکی کے شہر استنبول میں منعقدہ اس سربراہی کانفرنس میں سعودی عرب اور پاکستان سمیت پچاس اسلامی ملکوں کے سربراہان مملکت نے شرکت کی۔

سربراہی کانفرنس کی میزبانی کرنے والے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کانفرنس میں اپنے خطاب میں اسرائیل کو ایک قابض اور دہشت گرد ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف مظالم کو اب  ہم مزید برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل دوسرے علاقوں پر قابض ہو کر اپنا رقبہ بڑھا رہا ہے جبکہ فلسطین کے رقبہ میں نمایاں طور پر کمی آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اس قدم کے بعد واشنگٹن نے اسرائیل۔ فلسطینی جدوجہد کو ختم کرنے کی کوششوں میں ثالث کے طور پر اپنے کردار کو بھی ختم کر دیا۔

اسرائیل ایک قابض اور دہشت گرد ریاست ہے، ہم مسلمانوں کے خلاف مزید مظالم برداشت نہیں کر سکتے: اردوغان

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان: فائل فوٹو، اے پی۔

مسٹر اردوغان نے اسلامک کوآپریشن آرگنائزیشن کے اجلاس کے آخر میں کہا ’’اب سے جانبدار امریکہ کے لئے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ثالث ہونے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘‘۔ انہوں نے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی بھی وکالت کی۔

وہیں، مسلم ممالک کے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن گروپ (او آئی سی) نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی ماننے کا امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔ وہیں، مسلم ممالک کے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن گروپ (او آئی سی) نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی ماننے کا امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔

وہیں، مسلم ممالک کے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن گروپ (او آئی سی) نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی ماننے کا امریکہ کا فیصلہ غلط ہے۔ او آئی سی کے مطابق امریکہ کے اس فیصلے سے اشارہ ملتا ہے کہ اس نے اب مشرق وسطی کی امن مذاکرات سے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لئے ہیں۔  بیان میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی میں شامل 57 ممالک کے لئے امریکہ کا یکطرفہ فیصلہ’’قانونی طور پر غلط‘‘ہے اور اسے فلسطینی لوگوں کے حقوق پر ’’حملہ‘‘سمجھا جانا چاہئے۔

قبل ازیں فلسطینی صدر محمود عباس بھی کہہ چکے ہیں کہ اقوام متحدہ کو اس معاملے میں آگے آنا چاہئے۔ او آئی سی کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا ’’امریکہ اسرائیل کی طرفداری کرتا ہے لہذا اس معاملے میں اس کی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے مطابق ان کا فیصلہ حقیقت کو قبول کرنے کی ایک کوشش بھر تھی۔ اس کا مقصد امن معاہدے میں کسی کی حمایت کرنا نہیں تھا۔ یروشلم پر چل رہی اس رسہ کشی کے معاملے میں اسرائیل اور فلسطینی علاقے کا تنازعہ ہے۔ یروشلم خاص طور پر مشرقی یروشلم یہودیوں، مسلمانوں اور عیسائیوں کا مقدس مذہبی مقام ہے۔ پہلے یہ علاقہ اردن کے پاس تھا لیکن 1967 میں ہوئی مشرق وسطی کی جنگ میں اسرائیل نے اس پر قبضہ کر لیا۔ تب سے اسرائیل پورے یروشلم پر متحدہ راجدھانی ہونے کا دعوی کرتا رہا ہے۔

او آئی سی کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا ’’امریکہ اسرائیل کی طرفداری کرتا ہے لہذا اس معاملے میں اس کی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا‘‘۔ او آئی سی کی سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس نے کہا ’’امریکہ اسرائیل کی طرفداری کرتا ہے لہذا اس معاملے میں اس کی ثالثی کو قبول نہیں کیا جا سکتا‘‘۔

دوسرے فلسطینی رہنماؤں کا دعوی ہے کہ مشرقی یروشلم ممکنہ متحدہ فلسطین کا دارالحکومت ہوگا اور اس پر کوئی بھی فیصلہ امن مذاکرات کے بعد کے مراحل میں کیا جانا چاہئے۔ یروشلم پر اگرچہ اسرائیلی حاکمیت کو کبھی بین الاقوامی برادری کی رضامندی نہیں ملی اس لئے آج بھی تمام ممالک نے اپنے سفارت خانے تل ابیب میں ہی رکھے ہیں۔ اگرچہ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا سفارت خانہ یروشلم لے جائیں گے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز