سعودی عرب کے بعد الجزیرہ سے اب اسرائیل بھی خوف زدہ ، یروشلم میں واقع بیورو کو بند کرنے کی دھمکی

Jul 27, 2017 09:49 PM IST | Updated on: Jul 27, 2017 10:04 PM IST

یروشلم : اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت قطر کے ٹی وی نیوز چینل الجزیرہ کو اپنے ملک سے باہر نکال دینے پر غور کر رہی ہے۔ یاہو کے مطابق چینل مشرقی یروشلم میں پیدا صورت حال کی منفی کوریج کرکے پرتشدد حالات کو ہوا دے رہا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اس ضمن میں متعلقہ قانون نافذ کرنے والے محکمے سے کئی مرتبہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے مناسب اقدامات کرے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ اگر الجزیرہ کے یروشلم میں واقع بیورو کو بند کرنے میں قانون کی مناسب تشریح کی وجہ سے مشکلات حائل ہیں ، تو وہ ملکی پارلیمان میں قانون سازی کر کے اِس ٹی وی چینل کے عملے کو بیدخل کر دیں گے۔تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے بیان پر الجزیرہ نے کوئی اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

سعودی عرب کے بعد الجزیرہ سے اب اسرائیل بھی خوف زدہ ، یروشلم میں واقع بیورو کو بند کرنے کی دھمکی

قابل ذکر ہے کہ الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کو کئی عرب ریاستوں کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر نے الجزیرہ چینل کی بندش کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ ان ریاستوں کا بھی خیال ہے کہ یہ چینل عرب دنیا کی سیاسی و مذہبی تحریک اخوان المسلمین کی حمایت کرتا ہے۔ مصر نے اخوان المسلمین کو تحلیل کر کے اُس کے اثاثوں کو ضبط کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ مشرقی یروشلم میں حالیہ دنوں میں مسجد اقصی میں داخل ہونے کے مقام پر میٹل ڈیٹیکٹر نصب کرنے پر شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں کم از کم پانچ فلسطینی جاں بحق ہوگئے جبکہ اسرائیل کے دو پولیس اہلکاروں کی بھی موت ہوئی ہے۔ الجزیرہ پر اس کی منفی رپورٹنگ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز