فلسطین کو انٹرپول کی رکنیت ملنے پر اسرائیل چراغ پا ، فلسطینی وزیر خارجہ نے حامی ممالک کا شکریہ ادا کیا

Sep 28, 2017 12:24 PM IST | Updated on: Sep 28, 2017 12:25 PM IST

بیجنگ : بین الاقوامی سطح پر فلسطین کو ایک اور بڑی کامیابی اس وقت ملی جب انٹرپول نے اس کو بطور رکن تسلیم کر لیا جبکہ اسرائیل کو تمام تر لابئنگ کے باوجود منہ کی کھانی پڑی ، جس کی وجہ سے صیہونی ریاست کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگئی ہے اور وہ اس کی شدید مخالفت کرتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ جبکہ فلسطین کے عہدیداروں سمیت عالم اسلام نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز انٹرپول کے چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے اجلاس میں فلسطین کی رکنیت کے لیے رائے شماری کی درخواست کی گئی۔ اس موقع پر اجلاس میں موجود 74 ممالک نے فلسطین کو رکنیت دینے کے حق میں رائے دی۔

فلسطین کو انٹرپول کی رکنیت ملنے پر اسرائیل چراغ پا ، فلسطینی وزیر خارجہ نے حامی ممالک کا شکریہ ادا کیا

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے انٹرپول کی رکنیت کے لیے فلسطین کی حمایت کرنے والے ممالک کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ انٹرپول کی جانب سے فلسطین کی رکنیت قبول کرنا فلسطینی ریاست کے نفاذ قانون، ادارے کی بنیادی اقدار اور اصولوں پر پابندی اور فلسطینی قوم کے حقوق کو تسلیم کرنے کا ثبوت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انٹرپول میں فلسطین کو رکنیت کا درجہ ملنے کے بعد عالمی سطح پر فلسطینی کردار دار کرنے، فلسطینی قوم کے حقوق کے دفاع، آزادی کے لیے سفارتی اور قانونی ذرائع اختیار کرنے اور مزید عالمی اداروں میں شمولیت کا نیا موقع مل گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کئی ماہ سے فلسطین کو انٹرپول کی رکنیت سے محروم  رکھنے کے لیے لابنگ کرنے کے لیے کوشاں تھا۔ صہیونی ریاست کی طرف سے انٹرپول کو بھی درخواست دی گئی تھی کہ وہ فلسطینی ریاست کو رکنیت دینے کے حوالے سے رائے شماری کو فی الحال موخر کردے تاہم انٹرپول نے اسرائیلی درخواست رد کردی تھی۔ رائے شماری میں فلسطین کو انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعد اسرائیلی حکومت نے سخت تشویش اور غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے 2015ء میں انٹرپول کی رکنیت کے حصول کے لیے درخواست دی تھی۔ انسانی حقوق کے حلقوں اور عالمی ماہرین قانون نے فلسطین کو انٹرپول کی رکنیت حاصل ہونے کو غیرمعمولی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ادھر اسرائیلی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطین انٹرپول کی رکنیت ملنے کے بعداس تنظیم سے اسرائیلیوں کے خلاف دنیا بھر میں ’ ’ ریڈ نوٹس‘‘ کے اجراء کا کہہ سکتا ہے۔اس کے تحت بین الاقوامی پولیس مطلوب کسی اسرائیلی شخص کو گرفتار کرسکتی ہے اور اس کو بے دخل کرکے فلسطین کے حوالے کرسکتی ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز