یروشلم تنازع : امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل چراغ پا ، اقوام متحدہ کو بتایا جھوٹ کا گڑھ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے اعلان کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد سے قبل بوکھلائے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اس قرارداد کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کو ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا تھا۔

Dec 22, 2017 09:46 AM IST | Updated on: Dec 22, 2017 02:49 PM IST

یروشلم: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق امریکی صدر کے اعلان کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کے منظور ہونے سے اسرائیل بوکھلاگیا ہے۔ وزیراعظم نتن یاہو نے رائے شماری کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ کا گڑھ‘ قرار دیا۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل یروشلم کے حوالے سے امریکہ کی واضح پوزیشن پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور ان ممالک کا بھی جنھوں نے اسرائیل اور سچ کے حق میں ووٹ دیا۔

خیال رہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے وہ قرارداد منظور کرلی ہے جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس یا مشرقی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان واپس لے۔ قرارداد کے حق میں 128 ممالک نے ووٹ دیئے جن میں ہندستان بھی شامل ہے۔ 35 نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا جبکہ 9 نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

یروشلم تنازع : امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل چراغ پا ، اقوام متحدہ کو بتایا جھوٹ کا گڑھ

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو: فائل فوٹو، رائٹرز۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز