جکارتہ : مسلم جماعتوں کی مسیحی گورنر کے خلاف مظاہرے کی تیاری

Mar 29, 2017 08:50 PM IST | Updated on: Mar 29, 2017 08:51 PM IST

جکارتہ: انڈونیشیا میں شدت پسند تنظیموں کی قیادت میں مسلمان جمعہ کو جکارتہ کے مسیحی گورنر کے خلاف صدارتی محل تک احتجاجی مارچ کرنے کی تیاری کررہے ہیں، جس میں مبینہ توہین مذہب کے الزام میں موصوف گورنر کو برخاست کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ جکارتہ کے گورنر کے الیکشن کا دوسرا اور آخری مرحلہ 19 اپریل کو ہے، جس کے پیش نظر مذہبی اور سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ موجودہ مسیحی گورنر بسوکی تجاہجا پورناما کے خلاف توہین رسالت کا مقدمہ دائر ہے اور وہ جکارتہ گورنر کے الیکشن میں مسلم امیدواروں کے خلاف تنہا مسیحی امید وار ہیں۔

جمعہ کے روز نماز کی ادائيگی کے بعد ہونے والا مارچ سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہونے کی توقع ہے۔ اس سےقبل 15 فروری کو پہلے مرحلے کے الیکشن سے پہلے اس طرح کا مظاہرہ ہوا تھا۔ پولس کے قومی ترجمان رفیع عمار نے بتایا کہ جمعہ کے مظاہرے میں 20 ہزار افراد کے شامل ہونے کی امید ہے، جن میں طلبہ اور متعدد مذہبی و نسلی گروپ شامل ہوں گے۔ مظاہرین استقلال مسجد کے پاس جمع ہوں گے اور صدارتی محل تک مارچ نکالیں گے۔

جکارتہ :  مسلم جماعتوں کی مسیحی گورنر کے خلاف مظاہرے کی تیاری

واضح رہے کہ چینی نژاد مسٹر پورناما جکارتہ کے پہلے مسیحی گورنر ہيں اور مسلمانو ں کا الزام ہے کہ سیاسی تشہیر میں قرآن کریم کےاستعمال کے سلسلے میں اپنے حریف امیدواروں کے خلاف تبصرہ کرکے انہوں نے مذہب اسلام کی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کے خلاف ہزاروں مسلمانوں نے مسلسل مظاہرے کئے تھے، جس کے بعد ان کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ مسیحی گورنر نے اپنے تبصرے کے لئے اگرچہ معافی مانگ لی ہے، لیکن انہوں کسی غلطی سے انکار کیا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز