جماعت اسلامی ہند کی تقسیم: کتنی حقیقت، کتنا افسانہ؟

Oct 21, 2017 09:57 PM IST | Updated on: Oct 21, 2017 09:57 PM IST

آج دوپہر تک میرے بہت سے احباب نے ، جن کا تعلق ملک کی مختلف ریاستوں سے ہے ، بڑے اضطراب کے ساتھ اس خبر کی تصدیق چاہی جو سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے پھیل رہی تھی کہ جماعت اسلامی ہند کے ارکان اور کارکنان کی بہت بڑی تعداد نے ، جن میں سے بعض اراکینِ مجلسِ شوری بھی ہیں ، جماعت سے استعفی دے دیا ہے اور اپنی الگ جماعت بنا لی ہے ۔ ان احباب کے اضطراب میں شدّت یوں آئی کہ ایک نیوز پورٹل نے مرکزِ جماعت سے تحقیق کیے بغیر بڑی اشتعال انگیز ہیڈنگ کے ساتھ یہ خبر عام کی ، اگرچہ اس نے تھوڑی ہی دیر کے بعد اپنے اس غیر ذمے دارانہ رویّے پر معذرت کرلی _ بعض صحافی نما نوجوانوں نے تحقیق کا یہ طریقہ اپنایا کہ اس معاملے میں مرکزِ جماعت سے رابطہ کرنے کے بجائے اپنے رابطے کے بعض ارکانِ جماعت کو فون کیا ، لیکن جب کسی وجہ سے ان سے رابطہ نہیں ہوسکا تو اپنا غصہ اتارنا ضروری سمجھا ۔ انصاف کی بات یہ تھی کہ مرکزِ جماعت سے حقیقتِ حال معلوم کرنے کی کوشش کی جاتی ، یا اس ریاست کے امیرِ جماعت سے رابطہ کیا جاتا جہاں کے کچھ ارکان نے استعفا دیا ہے۔ یہ کیسا صحافتی اخلاق ہے کہ معاملہ اترپردیش کا ہو اور اس کی تحقیق حیدر آباد کے کسی رکنِ جماعت سے کی جائے اور اس کی ریکارڈنگ کرکے سوشل میڈیا پر پھیلانے کی کوشش کی جائے ؟! اپنے مخلص احباب کے اضطراب کو دور کرنے کے لیے اس معاملے کی حقیقت کو واشگاف کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

جماعتی نظم میں اترپردیش کی ریاست کو 2 حصوں (مشرق اور مغرب ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کچھ عرصے سے اترپردیش (مغرب) کے نظم کو لے کر وہاں کے اراکینِ مجلس شوری کی اکثریت اور بعض ارکان کو بے اطمینانی تھی ۔ نظم (امیر حلقہ اور سکریٹری حلقہ) کو تبدیل کیا گیا ، پھر بھی ان کی بے اطمینانی دور نہیں ہوئی ۔ غیر مطمئن ارکان نے خود کو نظم کی پابندی سے بالاتر سمجھا ۔ حلقے کے ذمے دار کی طرف کی طرف سے انھیں توجہ دلائی گئی ، مگر اسے وہ خاطر میں نہیں لائے ۔ یہ غیر مطمئن ارکان 19 اکتوبر کو گلاوٹی (بلند شہر) میں جمع ہوئے۔ انھوں نے ایک مختصر تحریر تیار کی، اس کا فوٹو اسٹیٹ کرایا گیا اور ہر ایک نے الگ الگ صفحہ پر دستخط کیا ۔ اس تحریر میں جماعت سے علیحدگی کی تین وجوہ بیان کی گئی ہیں۔

جماعت اسلامی ہند کی تقسیم: کتنی حقیقت، کتنا افسانہ؟

جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس پروگرام میں امیر جماعت مولانا سید جلال الدین عمری میڈیا اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے: فائل فوٹو۔

 اول۔ جماعتِ اسلامی ہند فکری اعتبار سے اپنے مقصد اور نصب العین سے ہٹ چکی ہے ۔

 دوم۔  اخلاقی اعتبار سے مسلسل زوال اور پستی کا شکار ہے ۔

سوم۔ ہماری طرف سے اصلاح کی تمام کوششیں ناکام ہو چکی ہیں ۔

استعفیٰ دینے والوں میں 25 ارکان اترپردیش (مغرب) کے ہیں، جن میں سے ایک حلقے کی مجلس شوری کے رکن ہیں _ 2 ارکان کا تعلق دہلی سے ہے _ یہ استعفی نامے مرکز بھیجے گئے ہیں۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ جماعت اپنے نصب العین سے ہٹ چکی ہے ، یا وہ اخلاقی پستی کا شکار ہے ، انھیں ضرور جماعت سے نکل جانا چاہیے اور ایسی اجتماعیت قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو صحیح نصب العین رکھتی اور اعلی اخلاقیات کی حامل ہو۔  جماعت سمجھتی ہے کہ وہ اپنے نصب العین پر قائم ہے ، البتہ بدلتے ہوئے حالات کے تحت اس نے اپنی بعض پالیسیوں میں تبدیلی کی ہے۔ جماعت کا دعوی نہیں کہ وہ پارساؤں کی جماعت ہے۔

نئی دہلی کے ابوالفضل انکلیو، اوکھلا میں واقع جماعت اسلامی ہند کا مرکزی دفتر: فائل فوٹو۔ نئی دہلی کے ابوالفضل انکلیو، اوکھلا میں واقع جماعت اسلامی ہند کا مرکزی دفتر: فائل فوٹو۔

مقامی ، ریاستی اور مرکزی ، ہر سطح پر ارکان خود بھی اپنی تربیت کی طرف متوجہ رہتے ہیں اور نظم کی طرف سے بھی کوشش کی جاتی ہے ۔ البتہ جو لوگ نظم کے پابند نہیں ہوتے اور مسلسل اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے اخراج کی کارروائی کی جاتی ہے۔

جماعت اسلامی خود کے بارے میں 'الجماعۃ' ہونے کا دعوٰی نہیں کرتی ۔ جو لوگ اس سے وابستہ نہیں ہیں وہ بھی صالح، متقی، دین دار ہوسکتے ہیں ۔ البتہ جماعت اپنے وابستگان سے نظم کی پابندی کا مطالبہ ضرور کرتی ہے۔ جو لوگ خود کو اس سے بالاتر سمجھتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے اور جماعت کے حق میں بھی کہ وہ جماعت سے الگ ہوجائیں ۔ مجھے تو معلوم ہوا ہے کہ جو دو تین افراد اس اجتماعی استعفی کے معاملے میں قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں ان کے خلاف نظم کی عدم پابندی کی وجہ سے حلقہ اور مرکز کی طرف سے کارروائی ہورہی تھی اور جلد ان کا اخراج متوقع تھا ۔ اگر یہ بات صحیح نہ ہو تو بھی حلقہ اترپردیش (مغرب) کے 700 ارکان میں سے 25 کے علیحدہ ہوجانے کو 'جماعت کی تقسیم' قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 مضمون نگار ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی معروف اسلامی اسکالر اور مصنف ہیں اور سہ ماہی مجلہ تحقیقات اسلامی کے نائب مدیر ہیں۔ 

نوٹ: مضمون نگار کی یہ رائے ذاتی ہے ، نیوز 18 اردو نہ تو اس کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی اس کی مخالفت ۔  

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز