گودھرا سانحہ : ہائی کورٹ سے ملی عمر قید کی سزائوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا : مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علماء احمد آباد کے صدر مفتی عبدالقیوم کی سربراہی میں ملزمین کے اہل خانہ نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی، جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی، سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار احمد اعظمی ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم وہ دیگر ذمہ داران سے ملاقات کی ۔

Nov 09, 2017 08:18 PM IST | Updated on: Nov 09, 2017 08:18 PM IST

نئی دہلی : 27 فروری 2002 ء کو ایودھیا سے بذریعہ سابرمتی ٹرین لوٹ رہے ۵۹؍ کار سیوکوں کو زندہ جلانے کے الزامات کے تحت گرفتار 31  مسلم نوجوانوں کو گجرات ہائی کورٹ سے ملی عمر قید کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل داخل کرنے اور ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے ملزمین کے اہل خانہ اور گجرات جمعیۃ علماء (ارشد مدنی) کے ذمہ داران نے آج ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ اور ریاستی جمعیۃ علماء کے صدر اور سیکریٹری سے ملاقات کرکے انہیں قانونی امداد فراہم کیئے جانے کی درخواست کی ۔

جمعیۃ علماء کے دفتر سے موصولہ اطلاعا ت کے مطابق آ ج صبح جمعیۃ علماء احمد آباد کے صدر مفتی عبدالقیوم کی سربراہی میں ملزمین کے اہل خانہ نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا مستقیم احسن اعظمی، جنرل سیکریٹری مولانا حلیم اللہ قاسمی، سیکریٹری قانونی امداد کمیٹی گلزار احمد اعظمی ، ایڈوکیٹ انصار تنبولی ، ایڈوکیٹ شاہد ندیم وہ دیگر ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ملزمین اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے تحریری درخواست دی اور گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیئے قانونی امداد طلب کی ہے ۔آج ملزمین کے اہل خانہ نے ان ۲۷؍ ملزمین کی درخواست جمعیۃ علماء میں دی ہے جنہیں گجرات ہائی کورٹ نے عمر قید کی سزا ء سنائی ہے۔

گودھرا سانحہ : ہائی کورٹ سے ملی عمر قید کی سزائوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا : مولانا ارشد مدنی

جمعیۃ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی: فائل فوٹو۔

ملزمین کے اہل خانہ کی جانب سے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کے نام تحریر قانونی امداد کی درخواست موصول ہونے کے بعد جمعیۃ لیگل سیل کے سربراہ گلزارا عظمی نے مولانا ارشد مدنی سے گفتگو کی جس پر انہوں نے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی انہیں ہدایت دی ہے ۔گلزار اعظمی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک بہت بڑا مقدمہ ہے جس میں تحقیقاتی دستوں نے قتل ، اقدام قتل اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت ۹۴؍ مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا اور ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا جہاں نچلی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب ۶۳؍ ملزمین کو باعزت بردی کردیا تھا وہیں ۲۰؍ ملزمین کو عمر قید اور ۱۱؍ دیگر ملزمین کو پھانسی کی سزاء سنائی گئی تھی۔

گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ ۹؍ اکتوبر کو گجرا ت ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس اننت ایس دوے اور جسٹس جی آر وادھوانی نے اپنے ۹۸۷؍ صفحات پر مشتمل فیصلہ میں ایک جانب جہاں نچلی عدالت سے ملی عمر قید کی سزائوں کو برقرار رکھا تھا وہیں پھانسی کی سزائوں کو عمر قید میں تبدیل کرکے ملزمین کو کچھ راحت دی تھیں لیکن اب جبکہ ملزمین کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء سے رابطہ قائم کیا ہے ، جلدہی سپریم کورٹ سے احمد آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف رجوع کیا جائے گا ۔انہو ں نے کہا کہ آج ان ملزمین کے اہل خانہ الیاس خالد چاندا، فاروق آجی میٹھی اور جمعیۃ علماء گجرات کے ذمہ دران مفتی عبدالقیوم ، مرزا نور بیگ و دیگر نے ملاقات کی اور مقدمہ کی تعلق سے گفتگو کی۔

آج دوران ملاقات ملزمین عبدالزاق محمد کرکر، بلال اسماعیل عبدالمجید، رمضانی بن یامین ، حسن احمد چرکھا، جابر بن یامین محبو ب خالد چاندا، سراج محمد عبدالرحمن، عرفان عبدالمجید، عرفان محمد حنیف، محبوب احمد یوسف حسن، قاسم عبدالصفدر، انور محمد ، صادق ماٹونگا عبداللہ بدام شیخ، محبوب یعقوب مہتا، شعیب یوسف احمد کامدر، صدیق محمد مورا، عبدالستار ابراہیم، عبدالرائوف عبدالمجید عیسی، یونس عبدالحق، ابراہیم عبدالرزاق، بلال عبداللہ اسماعیل، ایوب عبدالغنی، شوکت عبداللہ مولوی اسماعیل بادام،حاجی فاروق عبدالستار، محمد حنیف، شوکت یوسف اور عرفان سراج شامل ہیںنے اپنی درخواستیں برائے قانونی امداد جمع کرائی ہیں ۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز