یروشلم تنازع : اب 13 دسمبر کو استنبول میں ہونے والی او آئی سی کی میٹنگ پر سب کی نظریں مرکوز

Dec 10, 2017 09:04 PM IST | Updated on: Dec 10, 2017 09:04 PM IST

نئی دہلی : یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم شدہ حیثیت دےئے جانے سے متعلق امریکہ کے فیصلہ سے مسلم ممالک میں پھیلے غصہ کے درمیان سب کی نظریں اب 13دسمبر کو اس معاملہ پر تبادلہ خیال کے لئے استنبول میں ہونے والی آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی)کی میٹنگ پر ٹکی ہیں۔ عرب لیگ نے مصر کی راجدھانی قاہرہ میں کل رات ایک ایمرجنسی میٹنگ طلب کی۔ میٹنگ میں امریکہ سے اس فیصلہ کو یہ کہتے ہوئے واپس لےئے جانے کا مطالبہ کیا گیا کہ اس سے ناراضگی مزید بڑھے گی جو پرتشدد شکل اختیار کرسکتی ہے اور علاقہ میں افراتفری کی صورتحال کی بھی وجہ بنے گا۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی سنیچر کو ہوئی میٹنگ میں بھی امریکہ کے اس قدم کی مذمت کی گئی۔ امریکہ صدر کے فیصلہ کی پوپ اور ان کے یوروپی ساتھیوں نے بھی مذمت کی ہے۔ کئی مسلم ممالک نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپرتسلیم شدہ حیثیت دینے کے فیصلہ سے اسرائیل اور فلسطین کے مابین امن کے پیروکاروں کے درمیان اعتبار ختم ہوگیا ہے۔

یروشلم تنازع : اب 13 دسمبر کو استنبول میں ہونے والی او آئی سی کی میٹنگ پر سب کی نظریں مرکوز

او آئی سی کی میٹنگ 13 دسمبر کو استنبول میں ہوگی ۔ فائل فوٹو

اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق یروشلم اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بنٹا ہوا ہے۔ عالمی یونین نے 1967کی جنگ میں اسرائیل کے ذریعہ یروشلم پر قبضہ کے بعد سے کئی قرارداد پاس کرکے اس علاقہ کو خالی کرنے کی یہودی مملکت سے اپیل کی ہے۔برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سویڈن جیسے یوروپی ممالک نے امریکہ کے اس قدم کی مخالف کی ہے۔ بہرحال امریکی سفارتکار نکی ہیلی نے مسٹر ٹرمپ کے فیصلہ کو معقول بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک اسرائیل۔ فلسطین معاملہ کو حل کرنے کے لئے پرعزم ہے اور یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی کے طورپر تسلیم شدہ حیثیت دیکر اپنا موقف تبدیل نہیں کرسکتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز