ٹرمپ کا فیصلہ مسلمانوں سے عداوت پر مبنی ، اسرائیل کے خلاف شروع ہوسکتی ہے ایک اور انتفاضہ : ایران

Dec 07, 2017 01:02 PM IST | Updated on: Dec 07, 2017 01:02 PM IST

تہران : ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اسرائیل کے خلاف ایک اور انتفاضہ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ اشتعال انگیز اور غیر دانشمندانہ فیصلہ سخت اور پرتشدد ردعمل کا باعث بن سکتا ہے۔ ایک خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کا فیصلہ غیر قانونی ، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی معاہدوں کی واضح خلاف ورزی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے اور بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت کرکے فلسطینیوں کو ان کے حقوق سے محروم رکھنے کی کوشش کی ہے اور فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی مظالم میں امریکہ نے ہمیشہ اسرائیل کا ساتھ دیا ہے امریکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم میں برابر کا شریک ہے۔

ٹرمپ کا فیصلہ مسلمانوں سے عداوت پر مبنی ، اسرائیل کے خلاف شروع ہوسکتی ہے ایک اور انتفاضہ : ایران

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے اس اقدام کو مسلمانوں کے خلاف امریکی صدر کی عداوت اور دشمنی قراردیتے ہوئے اسے خطے میں اشتعال انگیزی قراردیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھےگا ایران مقبوضہ فلسطین کی مکمل آزادی تک فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑا رہےگا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز