یروشلم تنازع : امریکی صدر کی دھمکی کی چوطرفہ تنقید ، مسلم ممالک نے دادا گیری اور بلیک میلنگ قرار دیا

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ سے عین قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ عالمی برادری کو دھمکی دینے کی چوطرفہ تنقید و مذمت شروع ہوگئی ہے

Dec 21, 2017 04:16 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 04:16 PM IST

واشنگٹن : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں یروشلم کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلہ کے خلاف قرارداد پر ووٹنگ سے عین قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ عالمی برادری کو دھمکی دینے کی چوطرفہ تنقید و مذمت شروع ہوگئی ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے فورا بعد کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نهاد عوض نے ٹویٹ کے ذریعے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اقوام متحدہ میں اپنی قیادت کا استعمال ان اقوام کو دھمکی دینے اور بلیک میل کرنے کے لیے نہیں کرنا چاہیے، جو یروشلم میں انصاف اور مذہبی آزادی کے لیے کھڑی ہیں۔ انصاف عیسائیت، یہودیت اور اسلام کی بنیادی قدر ہے۔

ترک وزیر خارجہ چاوش اولو نے امریکی صدر کے بیان کو دھمکی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اولو نے کہا مجھے امید ہے کہ اس امریکی دباؤ کو عالمی برداری کی جانب سے مسترد کر دیا جائے گا۔

یروشلم تنازع : امریکی صدر کی دھمکی کی چوطرفہ تنقید ، مسلم ممالک نے دادا گیری اور بلیک میلنگ قرار دیا

متعدد مسلم رہنماؤں نے بھی امریکی صدر کے اس نئی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے بدمعاشی اور بلیک میلنگ‘ قرار دیا ہے۔فلسطینی سفیر ریاض منصور نے نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے کہا کہ جنرل اسمبلی میں ہمیں بہت زیادہ حمایت ملنے کی امید ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے اسے دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شہر کا مشرقی حصہ اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ اس سے قبل یہ علاقہ اردن کے قبضے میں تھا۔فلسطینی مشرقی یروشلم پر اس کی مستقبل کی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کی حتمی حیثیت کے بارے میں امن مذاکرات کے آئندہ مراحل میں بات چیت ہوگی۔

Loading...

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز