یروشلم تنازع : اب امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی برادری کو دھمکی ، جو مخالفت کرے گا، اس کو امداد نہیں 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعرات کو یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پر رائے شماری کی جائے گی ، جس کو امریکی صدر نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

Dec 21, 2017 04:07 PM IST | Updated on: Dec 21, 2017 04:07 PM IST

واشنگٹن : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جمعرات کو یروشلم کو اسرائیل کی راجدھانی تسلیم کرنے کے حالیہ امریکی فیصلے کے خلاف قرارداد پر رائے شماری کی جائے گی ، جس کو امریکی صدر نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ووٹنگ سے عین قبل امریکی صدر نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل اسمبلی میں جو کوئی ملک یروشلم سے متعلق امریکی فیصلہ کی مخالفت کرے گا، اس کی امداد روک دی جائے گی۔ جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی قرار داد میں امریکی صدر سے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے سے مطالبہ کیا گیا ہے۔

کابینہ کے اجلاس کے آغاز سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان تمام اقوام کے لیے، جو ہمارا ہی پیسہ لیتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ہی ووٹ دیتے ہیں۔ یہ کروڑوں، یہاں تک کہ اربوں ڈالر لیتے ہیں اور پھر ہمارے خلاف ووٹ دیتے ہیں۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہم یہ رائے شماری دیکھ رہے ہیں، انہیں ہمارے خلاف ووٹ دینے دیں، ہم بچت کریں گے، ہمیں کوئی پروا نہیں۔

یروشلم تنازع : اب امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی برادری کو دھمکی ، جو مخالفت کرے گا، اس کو امداد نہیں 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ : فائل فوٹو۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی میں امریکی سفیر نے بھیگزشتہ روز دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ ان تمام ممالک کو جواب دے گا، جو جنرل اسمبلی کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیں گے۔نکی ہیلی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ہم نے امریکی عوام کی خواہشات کے مطابق بیت المقدس میں سفارتخانہ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، جن ممالک کی ہم مدد کرچکے ہیں ان سے امریکا کو نشانہ بنانے کی توقع نہیں رکھتے تاہم

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ کے اس فیصلے کی وجہ سے اسے دنیا بھر سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔شہر کا مشرقی حصہ اسرائیل کے قبضے میں ہے جبکہ اس سے قبل یہ علاقہ اردن کے قبضے میں تھا۔فلسطینی مشرقی یروشلم پر اس کی مستقبل کی ریاست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس کی حتمی حیثیت کے بارے میں امن مذاکرات کے آئندہ مراحل میں بات چیت ہوگی۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز