مسجد نبوی میں اسرائیلی شہری کی تصویر کو لے کر سعودی حکومت تنقید کی زد پر ، سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ کا اظہار

Nov 22, 2017 09:33 PM IST | Updated on: Nov 22, 2017 09:33 PM IST

ریاض : اسرائیل کے ایک شہری بین تسیون کی سعودی عرب کے شہر مدینہ کی مسجد نبوی میں تصاویر عرب دنیا کے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا باعث بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر عربی ہیش ٹیگ 'مسجد نبوی میں ایک یہودی پر گذشتہ 24 گھنٹوں میں 90 ہزار سے زیادہ ٹویٹس کئے جاچکے ہیں۔ بی بی سی کے رپورٹ کے مطابق روس میں پیدا ہونے والے 31 سالہ اسرائیلی شہری بین تسیون نے اپنے ایران، لبنان، سعودی عرب اور اردن کے دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہیں۔ان کے فیس بک کے صفحے پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں انھیں مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کی مسجدِ نبوی میں دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی شہری کے مسجد نبوی جانے پر ایک عربی ٹوئٹر صارف کا کہنا تھا کہ علما جیلوں میں جبکہ صیہونی مسجدنبوی میں ہیں، یہ پریشان کن ہے۔' ایک دوسرے صارف کا کہنا تھا کہ آل سعود کے دور میں صیہونی اور اسلام اور مسلمانوں کے دشمن پیغمبر کی مسجد کی بےحرمتی کر رہے ہیں۔ایک اور ٹویٹ میں اس ہیش ٹیگ ’مسجد نبوی میں ایک صہیونی،‘ لکھا تھا کہ مسجد نبوی کے منبر پر ایک صیہونی۔‘

مسجد نبوی میں اسرائیلی شہری کی تصویر کو لے کر سعودی حکومت تنقید کی زد پر ، سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ کا اظہار

بی بی سی نے ٹائمز آف اسرائیل کے حوالہ سے بتایا ہے کہ انسٹا گرام پر لوگوں کے ناراضگی سے بھرے تبصرے کی بھر مار دیکھ کر فوٹو شیئرنگ کے اس پلیٹ فارم کو تسیون کا اکاؤنٹ تک بند کرنا پڑا۔ تاہم تسیون نے فیس بک پر کی جانے والی پوسٹ میں کہا کہ سعودی عرب کے لوگ یہودی قوم کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔'ایک تصویر میں تسیون کو سعودی عرب کے ٹخنوں تک لمبے روایتی لباس میں تلوار کے ساتھ جسے 'ثوب کہا جاتا ہے، ڈانس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ غیر مسلمانوں کو مکہ کا دورہ کرنے سے منع کیا جاتا ہے اور انھیں مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ مدینہ کے مرکزی حصے میں داخل نہ ہوں جہاں مسجد نبوی واقع ہے۔ تاہم تسیون کا کہنا ہے کہ مدینہ میں واقع مذہبی مقامات عام افراد کے لیے کھلے ہیں۔تسیون کا کہنا ہے کہ مسلم ممالک کا دورہ کرنا ان کا 'مشغلہ ہے۔ انھوں نے اپنے پیغام کو 'دیگر ثقافتوں اور عقائد کا احترام قرار دیا۔ واضح رہے کہ بین سنہ 2014 میں اسرائیلی شہری بن گئے تھے۔

یہی نہیں تسیون کے مطابق انھوں نے مطلوبہ ویزے حاصل کیے اور قانونی طور پر تمام مقدس مقامات میں داخل ہوئے، تاہم انھوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ انھوں نے کن پاسپورٹوں پر سفر کیا۔انھوں نے سوشل میڈیا پر ایران کے شہروں تہران اور قم کے دورے کی بھی تصاویر پوسٹ کیں۔واضح رہے کہ اسرائیل کے شہریوں کو ایران کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز