جے ڈی یو4 ریاستوں میں اپنےدم پرلڑے گی الیکشن: کے سی تیاگی

Jul 08, 2018 09:23 PM IST | Updated on: Jul 08, 2018 09:24 PM IST

نئی دہلی: جنتا دل (یو) (جے ڈی یو) نے چارریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں سماج وادی تحریک سے متاثرعلاقوں میں اپنے بل دم پرالیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ راشٹریہ جنتا دل بدعنوانی پارٹی ہے۔ اتحاد پر بات کرنے کے لئے پہلے کانگریس کو اس سے رشتہ ختم کرنا ہوگا۔ 

عظیم اتحاد میں جے ڈی یو کی شمولیت پر انہوں نے کہا کہ جب تک کانگریس آرجے ڈی جیسی بدعنوان پارٹی پر اپنا اسٹینڈ واضح نہیں کرتی ہے، تب تک ہماری پارٹی ان کے ساتھ کیسے جاسکتی ہے؟

جے ڈی یو4 ریاستوں میں اپنےدم پرلڑے گی الیکشن: کے سی تیاگی

جے ڈی یو لیڈر کے سی تیاگی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

کے سی تیاگی نے کہا کہ جے ڈی یو 2019 کا الیکشن بی جے پی کے ساتھ لڑے گی۔ حالانکہ انہں نے کہا کہ میٹنگ میں سیٹ تقسیم پر کوئی غور نہیں کیا گیاہے جب تک اس کی کوئی تجویز نہیں آتی ہے، تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

جے ڈی یو کی قومی مجلس عاملہ کی آج یہاں ہونے والی میٹنگ میں مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور منی پور اسمبلی انتخابات میں سماج وادی تحریک سے متاثرعلاقوں میں محدود سیٹوں پر امیدوار کھڑے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت پارٹی کے سربراہ اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے کی۔

پارٹی کے جنرل سکریٹری کے سی تیاگی نے پریس کانفرنس میں مجلس عاملہ کے فیصلوں کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی پارٹی پہلے بھی گجرات، ناگا لینڈ اور کرناٹک میں آزادانہ طورپرانتخابات لڑتی رہی ہے۔ جنتادل (یو) چارریاستوں میں انتخابات نہ تو کسی پارٹی کو شکست دینے کے لئے اورنہ ہی جتانے کے لئے لڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے لئے بہار میں سیٹوں کے تال میل کے واسطے پارٹی کے پاس کوئی تجویز نہیں آئی ہے اور بی جے پی کی جانب سے اگر پیشکش آئے گی، تو اس پرمل بیٹھ فیصلہ کر لیا جائے گا۔

کے سی تیاگی نے کہا کہ اجلاس میں ایک قرارداد منظور کیا گیا تھا، جس میں لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات میں ایک ساتھ کرانے کواصولی طور پر قبول کیا گیا، لیکن موجودہ صورتحال کو اس کے لئےمناسب نہیں سمجھا گیا۔ ایک ساتھ انتخابات کرائے جانے سے کالادھن پر کچھ حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے اوراسمبلی اورلوک سبھا انتخابات الگ الگ ہونے سے اس پر ہونے والے خرچ اوروقت بھی بچے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کاموں پرکوئی منفی اثرنہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ آیا انتخابی کمیشن ایک ساتھ دونوں انتخابات کرانے کا متحمل ہے یا نہیں اوراس طرح کے انتخابات کے لئے قانون کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

پارٹی نے ایک اورتجویزمنظورکی ہے، جس میں آسام شہریت بل 2016 کی، پارلیمنٹ میں مخالفت کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ بل منظور ہوجائے تو آسام میں بحران پیدا ہوجائے گا اور وہاں کے اصل باشندوں کے سامنے بہت سے مسائل پیدا ہوں گے۔

(نیوز ایجنسی یو این آئی ان پٹ کے ساتھ)

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز