شاہ سلمان نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا

Jun 21, 2017 10:57 AM IST | Updated on: Jun 21, 2017 04:47 PM IST

دبئی۔  سعودی فرماں روا شاہ سلطان بن عبدالعزیز نے آج صبح ایک شاہی فرمان جاری کیا ہے جس کے بموجب شہزادہ محمد بن نائف کو ولی عہد کے منصب سے ہٹاکر ان کی جگہ اپنے 31سالہ بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان کو اگلا حکمراں مقرر کیا ہے۔ شہزادہ سلمان کے پاس نئی ذمہ داری کے ساتھ وزیر دفاع کا عہدہ بھی برقرار رہے گا نیز وہ نائب وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ سعودی عرب کی بیعت کمیٹی کے 34میں سے 31ارکان نے شہزادہ محمد بن سلمان کے ولی عہد مقرر کئے جانے کے فیصلہ کی توثیق کی ہے۔ شاہی فرمان کے مطابق آج شب تراویح کے بعد نئے ولی عہد سے اظہار وفاداری کا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ شاہی فرمان کے مطابق شاہ سلمان نے شہزادہ عبدالعزیز بن سعودد بن نایف کو وزیر داخلہ جبکہ احمد بن محمد السالم کو نائب وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔ ان کا عہدہ وزیر کے مساوی ہو گا۔

شہزادہ بندر بن فیصل بن بندر بن عبدالعزیز کو جنرل انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ کا معاون مقرر کیا گیا ہے۔ شاہی فرمان ہی کے ذریعے بندر بن خالد بن فیصل عبد العزیز کو کو انٹیلی جنس شعبے کے سربراہ کا معاون مقرر کیا گیا ہے۔ شاہی فرمان کے مطابق شہزادہ بندر بن خالد بن فیصل بن عبدالعزیز کو شاہی دیوان کا مشیر تعینات کیا گیا ہے، ان کا عہدہ وزیر کے برابر ہو گا۔ شہزادہ عبداللہ بن خالد بن سلطان بن عبدالعزیز کو شاہی دیوان میں مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا عہدہ اور مراعات وزیر کے مساوی ہوں گی۔ شہزادہ ترکی بن محمد بن فھد بن عبدالعزیز کو مساوی کے مساوی عہدے پر شاہی دیوان کا مشیر بنا دیا گیا ہے۔ نیز عبدالرحمان الربیعان شاہی دیوان کے مشیر ہوں گے، ان کا عہدہ بھی وزیر کے برابر ہو گا۔

شاہ سلمان نے اپنے بیٹے شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کو ولی عہد مقرر کیا

بدھ کے روز جاری ہونے والے شاہی فرمان کے مطابق شہزادہ فیصل بن سطام بن عبدالعزیز کو اٹلی میں سفیر مقرر کیا گیا ہے، ان کا عہدہ بھی وزیر کے برابر ہوگا۔ شہزاہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کو جرمنی میں سعودی عرب کا سفیر بنا دیا گیا ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز بن ترکی بن فیصل بن عبدالعزیز کو جنرل سپورٹس اتھارٹی کا ڈپٹی چیئرمین تعینات کیا ہے۔ شاہی فرمان کے ذریعے شہزادہ عبدالعزیز بن فھد بن ترکی بن عبدالعزیز کو سعودی علاقے الجوف کا نائب گورنر بنایا گیا ہے۔ شہزادہ محمد بن نائف کئی سال سے شاہی حکومت کے انسداد دہشت گردی سربراہ تھے۔ انہوں نے ۰۶۔۲۰۰۳ کے درمیان القاعدہ کے خلاف کارروائیاں کرکے اس کی بمباریوں کو روک دیا تھا جس کی امریکہ نے بھی تعریف کی تھی ۔ انہیں تمام عہدوں سے بے دخل کردیا گیا ہے۔

نائب ولی عہد محمد بن سلمان یمن میں سعودی عرب کی جنگ چلانے کے ذمہ دار رہے ہیں ۔ تیل کے بغیر سعودی عرب کا مستقبل بنانے کے منصوبہ کے پیچھے بھی ان کا دماغ کارفرما تھا۔ آج کا یہ اچانک اعلان سعودی عرب میں ڈھائی سال سے جاری بڑی تبدیلیوں کے بعد ہوا ہے ۔ ۲۰۱۵ میں حکومت نے یمن میں جنگ شروع کرکے توانائی کی سبسڈی ختم کرکے اور ۲۰۱۶ میں سرکاری تیل کمپنی ’ آرامکو‘کو جزوی طور سے پرائیویٹ کرکے اپنے اتحادیوں کو بھی حیران کردیا تھا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز