پڑھیں : کس کیس میں نواز شریف کی گئی کرسی ، کیا ہے پنامہ کیس اور اس میں اور کس کس کے تھے نام شامل

Jul 28, 2017 02:15 PM IST | Updated on: Jul 28, 2017 02:15 PM IST

اسلام : پنامہ پیپرلیکس معاملہ میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف جمعہ کو مجرم قرار دیے گئے۔ وہاں کی سپریم کورٹ نے انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے بھی ہٹا دیاگیا ۔ وہاں کی سپریم کورٹ میں پانچ ججوں کی بینک نے یہ فیصلہ سنایا۔ بتا دیں کہ گزشتہ سال برطانیہ سے لیک ہوئے ٹیکس دستاویزات میں دنیا بھر کے 140 لیڈروں اور سینکڑوں سلیبریٹیز کی طرف ٹیکس ہیون ممالک میں پیسہ سرمایہ کاری کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔ اس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کا بھی نام تھا۔ اس میں خاص طور پر پنامہ، برطانوی ویژن اور جزائر بہاماس میں ہوئے سرمایہ کاری کے بارے میں انکشاف ہوا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان ممالک میں ٹیکس قوانین آسان ہونے اور شناخت ظاہر نہیں ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری کئے گئے تھے۔

پاناما پیپرز کی جانب سے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل ہے، جس میں روس کے صدر ولادی میر پوتن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔ویب سائٹ پر موجود ڈیٹا کے مطابق کہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر ان کی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔

پڑھیں : کس کیس میں نواز شریف کی گئی کرسی ، کیا ہے پنامہ کیس اور اس میں اور کس کس کے تھے نام شامل

فائل فوٹو: رائٹرز

پاکستان میں پنامہ کے انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے نواز شریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے ان درخواستوں پر سماعت کے بعد رواں سال 20 اپریل کو نواز شریف کے خلاف مزید جانچ کے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دی تھی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60 روز کے اندر اس معاملے کی تحقیقات مکمل کر کے اپنی رپورٹ پیش کرے جس کی بنیاد پر حتمی فیصلہ سنایا جائے گا۔ جے آئی ٹی نے 2 ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی تھی، 10 جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان پر کئی الزامات لگاتے ہوئے مختلف شواہد سامنے لائے گئے تھے۔

جس کے بعد جسٹس اعجاز افضل خان کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے پانچ سماعتوں کے دوران فریقین کے دلائل سنے اور 21 جولائی کو پاناما عملدرآمد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج سنایا گیا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز