تو اس لئے سعودی ولی عہد محمد بن نائف کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا!۔

Jul 20, 2017 04:45 PM IST | Updated on: Jul 20, 2017 04:49 PM IST

ؓؓؓؓؒؓؒؓؒؓؓبلامقام۔  منگل 20 جون کو سعودی تخت و تاج کے وارث اور پچھلے 20 سال سے سعودی عرب کی سیکورٹی کو سنبھالنے والی طاقتور شخصیت محمد بن نائف کو شاہ سلمان بن عبد العزیز نے مکہ میں شاہی محل کی چوتھی منزل پر ملنے کے لئے طلب کیا۔  ولی عہد نائف کے قریبی ذرائع کے مطابق بادشاہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ بادشاہ کے چہیتے بیٹے محمد بن سلمان کے حق میں دستبردار ہوجائیں ۔ اس کی وجہ شہزادہ نائف کی دردکش دواؤں کی لت بتائی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ ’’بادشاہ شہزادے سے ملنے آئے۔ دونوں کمرے میں تنہا تھے‘‘۔ انہوں نے ان سے کہا ’میں چاہتا ہوں کہ تم اپنا عہدہ چھوڑدو کیونکہ تم اپنی لت کا علاج کرنے کا مشورہ نہیں مان رہےہو جس کی وجہ سے تمہارے فیصلے خطرناک حد تک متاثر ہورہے ہیں۔ بادشاہ اور ولی عہد کی اس غیر معمولی ملاقات کے بارے میں نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

رائٹر ،شہزازہ نائف کی دوا کی لت کی آزادانہ تصدیق نہیں کرسکا۔ ایک سعودی افسر نے کہا کہ یہ سب بے بنیاد ہے اور جھوٹ بلکہ بکواس ہے۔ افسر نے رائٹر کو بیان جاری کرکے کہا کہ جہاں جو کہانی سنائی گئی ہے وہ مکمل طو رپر تصوراتی اور ہالی ووڈ کی فلم کےلائق کہانی ہے۔ انہوں نے نائف کی دواؤں کے نشہ کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ افسر نے کہا محمد بن نائف کو قومی مفاد میں بتایا گیا ہے کہ  ان کو ہٹائے جانے کی وجوہات خفیہ ہیں ان میں نہ کوئی دباؤ ڈالا گیا اور نہ ہی ان کی توہین کی گئی ہے۔ تاہم صورتحال سے واقفیت رکھنے والے ذرائع نے کہا کہ شاہ نے اپنے فرزند کو تخت کا وارث بنانے کا عزم کررکھا تھا اور نائف کی دوا کی لت کو انہیں الگ تھلگ کرنے کا بہانہ بنایا ہے۔ شاہی کنبہ کے تین قریبی افراد چار عرب افسران اور خطے کے سفارتکاروں نے رائٹرز کو بتایا کہ شہزادہ نائف عہدہ چھوڑنے کے حکم سے ہکا بکا رہ گئے تھے۔

تو اس لئے سعودی ولی عہد محمد بن نائف کو ان کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا!۔

محمد بن نایف: فائل فوٹو، رائٹرز

سعودی سیاسی ذ ریعے نے بتایا ’’نائف کے لئے یہ بہت بڑا صدمہ تھا۔ یہ تو تختہ پلٹ تھا، اس کے لئے وہ تیار نہیں تھے۔‘‘ ذرائع نے بتایا کہ نائف کو توقع نہیں تھی کہ ان کی جگہ پارہ صفت محمد بن سلمان کو دے دی جائے گی جنہوں نے ان کے مطابق کئی انتہائی غلط پالیسی فیصلے کئے تھے جیسے کہ یمن کی لڑائی اور افسر شاہوں کو مالیاتی فائدوں میں تخفیف کرنا۔ اس منتقلی سے 32 سالہ محمد بن سلمان کے ہاتھوں میں ہر طرح کے اختیارات آگئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی وہی بادشاہ بن جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو انہیں ایسے ملک کو سنبھالنا ہوگا جو ان دنوں کئی مسائل سے گذررہا ہے جیسے کہ تیل کی گھٹتی قیمتیں، یمن کی لڑائی، مضبوط ایران کے ساتھ دشمنی اور خلیج کا بڑا سفارتی بحران۔  شہزادہ نائف کے قریبی ذرائع نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی صحت خراب ہے ان کی طبیعت اس وقت اور بگڑگئی تھی جب 2009 میں القاعدہ کے حملہ آور نے ان کے محل میں ان کے سامنے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا تھا۔  سعودی عرب کے تین اور ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی کہ ان کی صحت خراب ہے۔

ان کے ذریعے نے بتایا ہے کہ نائف کے جسم میں بم کی کرچیاں اب بھی موجود ہیں اوران کے بدن سے نکالی نہیں جاسکیں اور وہ درد کو کم کرنے کے لئے درد کش جیسی دواؤں پر منحصر ہیں۔ ان کا حالیہ برسوں میں سوئزرلینڈ میں بھی علاج ہوچکا ہے۔ شاہ نے ایک خط لکھا کہ نائف کی طبی حالت کی وجہ سے انہیں ان کے عہدے سے سبکدوش کیا جارہا ہے اور ان کی جگہ محمد بن سلمان کی تقرری کی جا رہی ہے۔ یہ خط فون پر مجلس شوری کے ارکان کو سنایا گیا۔ اس دوران نائف کو رات بھر ایک کمرے میں تنہا رکھا گیا، ان سے موبائل فون لے لیا گیا تھا۔ وہ اپنے معاونوں سے بھی رابطہ نہیں کرسکتے تھے۔ ان کے محافظ تبدیل کر دیئے گئے تھے۔ کونسل کے ممبران کے دستخط لے لئے گئے تھے۔ تین کو چھوڑ کر تمام ممبران نے دستخط کردیئے تھے۔ تختہ پلٹ کامیاب ہوگیا تھا۔ اس کی ریکارڈنگ کرکے 53 سالہ ولی عہد کو سنادی گئی تھی تاکہ وہ کوئی مزاحمت نہ کریں۔

فجر کے وقت نائف نے شکست تسلیم کرلی اور انہوں نے محل کے ایک مشیر سے کہہ دیا کہ وہ شاہ سے ملنے کو تیار ہیں۔ ملاقات بے حد مختصر تھی۔ نائف ولی عہد کا عہدہ چھوڑنے کو تیار تھے اورانہوں نے دستاویز پر دستخط بھی کردیئے ۔ جب وہ بادشاہ سے مل کر باہر نکلے تو دیکھ کر حیران رہ گئے کہ محمد بن سلمان ان کے منتظر تھے۔ انہوں نے نائف کو گلے لگایا اس وقت ٹی وی کیمرے چل رہے تھے۔ اس کے بعد پہلے سے تحریر کردہ بیان جاری کردیا گیا کہ بادشاہ نے اپنے بیٹے کو اگلا ولی عہد مقرر کردیا ہے۔ پوری عرب دنیا میں یہ کلپ دکھایا گیا۔ اس کے بعد بھی نائف کو نظربند رکھا گیا۔ انہیں کنبہ کے قریبی افراد کے علاوہ کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی۔ وہ فون بھی نہیں کرسکتے تھے، پچھلے ہفتہ انہیں صرف اپنی بوڑھی والدہ سے ملنے کی اجازت دی گئی وہ بھی نئے محافظوں کے ساتھ ۔ نائف اپنے کنبہ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ یا لندن جانا چاہتے تھے مگر بادشاہ نے منع کردیا۔ وائٹ ہاوس اور سی آئی اے نے اس پر رائے زنی کرنے سے انکار کردیا۔

انتظامیہ کے ایک افسر نے کہا کہ وہ یہ تو جانتے تھے کہ محمد بن سلمان شاہ کے پسندیدہ ہیں مگر اس کے آگے وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ کئی سعودی اور مغربی افسران کو اس تبدیلی کی توقع تھی مگر اتنی جلدی ایسا ہوجائے گا یہ نہیں معلوم تھا۔ محمد بن سلمان کو ان کے بیمار 81 سالہ والد نے غیر معمولی اختیارات دے رکھے تھے ۔ سیاست، تیل ، سیکورٹی اور انٹلی جینس کے شعبوں میں ان کی بہت چلتی تھی۔ نائف کو بتائے بغیر ہی وہ بہت سے فیصلے کرلیتے تھے۔ جب دو سال قبل شاہ سلمان بادشاہ بنے تو بیٹے نے کئی اہم عہدوں پر اپنے آدمی مقرر کردیئے تھے۔ وہ وزارت داخلہ میں بھی بہت مداخلت کرتے تھے اور نائف کو بتائے بغیرافسروں کی تقرری، ترقی اور انہیں ہٹانے کے فیصلے کرلیتے تھے۔ جانشینی کی لڑائی 2015 میں شروع ہوئی تھی جب نائف کے ذاتی دربار کا شاہ کے دربار کے ساتھ انضمام کر دیا گیا۔ جس سے نائف کی آزادی صلب ہوگئی۔ اس کے بعد نائف کے سلامتی مشیر سعد الجبری کو ہٹا دیا گیا۔

جب ڈونالڈ ٹرمپ نے حکومت سنبھالی تو محمد بن سلمان نے واشنگٹن میں اپنے روابط مضبوط  کرلیے تاکہ امریکہ میں نائف کا اثر و رسوخ ختم کرسکیں۔ نائف کو القاعدہ کے خلاف اپنی کامیابیوں کی وجہ سے کافی حمایت حاصل تھی۔ جب محمد بن سلمان نے ٹرمپ کے داماد اور مشیر جارڈ کشنر کے ساتھ مضبوط تعلق استوار کرلیا تو نائف پیچھے رہ گئے۔ جب امریکی افسر سے نائف کو ولی عہد کے عہدے سے ہٹا کر محمد بن سلمان کو ان کی جگہ دینے سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا امریکہ اس طرح کے حساس معاملوں میں نہ تو مداخلت کرنا چاہتا ہے اور نہ ہی چاہتا ہے کہ ایسا لگے ۔ ہم شاہ، شہزادہ نائف اور شہزادہ سلمان کی بہت عزت کرتے ہیں اور سعودی عرب اور وہاں کی قیادت کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز