Live Results Assembly Elections 2018

پاکستان : کلبھوشن یادو سے دو سال بعد ملیں ماں اور بیوی ، شیشے کی دیوار کے ساتھ ہوئی بات چیت

سفارتی کوششوں اور کئی سطح پر ہونے والی بات چیت کے بعد آخر کار پیر کو پھانسی کی سزپانے والے ہندستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو سے ملنے کیلئے ان کی ماں اور بیوی پاکستان پہنچ گئی ہیں

Dec 25, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Dec 25, 2017 08:42 PM IST

اسلام آباد: پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں پھانسی کی سزا پائے ہندوستانی بحریہ کے سابق افسر کلبھوشن جادھو سے آج پاکستانی دفتر خارجہ میں ان کی والدہ اور اہلیہ نے ملاقات کی۔اس موقع پرپاکستان میں ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی موجود تھے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ ملاقات35 سے 40منٹ تک چلی۔ کمانڈر جادھو کی اہلیہ اور والدہ آج دوپہر تقریباًساڑھے بارہ بجے اسلام آباد پہونچی تھیں۔ان دونوں کو سخت حفاظتی حصار میں اسلام آباد ایئرپورٹ سے پہلے ہندوستانی ہائی کمیشن پہنچایا گیا۔ جہاں انہوں نے کچھ دیر قیام کیا اور پھر کلبھوشن سے ملنے کے لیے دفتر خارجہ کے لیے روانہ ہو گئیں۔

ویڈیو فوٹیج کے مطابق وزارت خارجہ کے باہر پاکستانی میڈیا بھی موجود تھا لیکن کسی نے ان سے کوئی بات نہیں کی۔ مسٹر سنگھ کمانڈر جادھو کی والدہ اور اہلیہ کو سیاہ رنگ کی ایس یو وی میں لے کر آئے۔ وہاں پہنچنے پر مہمانوں کو ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جو کانچ کی موٹی دیوار سے دو حصوں میں تقسیم تھا۔ ایک حصے میں کمانڈر جادھو بیٹھے تھے ۔ دونوں طرف کئی ویڈیو کیمرے لگائے گئے تھے۔ بات چیت ریکارڈ کرنے کے لئے جدید ترین سینسر سے لیس آلات نصب کئے گئے تھے۔ دوسرے حصے میں کمانڈر جادھو کی والدہ اور اہلیہ کی کرسی لگائی گئی تھی ۔ جب کہ پاکستانی وزارت خارجہ کی ایک خاتو ن افسرڈاکٹر فریحہ بگٹی اور مسٹر سنگھ پیچھے بیٹھے بات چیت پر قریبی نگاہ رکھے ہوئے تھے۔دونو ں طرف سے بات چیت الیکٹرانک ذریعہ سے ہورہی تھی تاکہ منہ سے نکلا ہو ا ایک لفظ بھی ریکارڈ سے باہر نہ رہے۔ کوئی کسی کو دھیمے لہجے میں یا اشاروں سے بھی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔

پاکستان : کلبھوشن یادو سے دو سال بعد ملیں ماں اور بیوی ، شیشے کی دیوار کے ساتھ ہوئی بات چیت

ذرائع کے مطابق جادھو کی اہلیہ اور والدہ ہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً چار بجے پاکستانی دفتر خارجہ کی عمارت سے باہر آئیں اور اس کے بعد ایک سفید ایس یو وی میں سوار ہوکر ہندوستانی ہائی کمیشن کے لئے روانہ ہوگئیں جہاں ہندوستانی سفارت کاروں نے ان دونوں سے بات چیت کی۔ کمانڈر جادھو کی اہلیہ اور والدہ دوبئی کے راستے اسلام آباد پہنچی تھیں اور وہ آج ہی ہندوستان واپس لوٹ آئیں گی۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق کلبھوشن کے اہل خانہ کی جانب سے انسانی بنیادوں پر ملاقات کی درخواست کی گئی تھی لہذٰا حکومت پاکستان نے ان کی والدہ اور اہلیہ کو ملاقات کی اجازت یوم قائد اعظم کے موقع پر انسانیت کے ناطے دی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستانی افسر کی موجودگی کا مطلب قونصل رسائی نہیں ہے۔پاکستانی میڈیا کے مطابق حکومت پاکستان نے کلبھوشن جادھو کی والدہ اور اہلیہ کو ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرنے کی پیشکش کی تھی تاہم حکومت ہند کی جانب سے یہ پیشکش ٹھکرادی گئی۔

دریں اثنا پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان نے ہندوستان کے ساتھ اپنا وعدہ پورا کیا اور ہندوستانی جاسوس کلبھوشن جادھو کی ان کی اہلیہ اور والدہ سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملاقات کرادی ۔کلبھوشن جادھو کی ان کی اہلیہ اور والدہ کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘یہ ملاقات قونصلر رسائی کے تناظر میں نہیں بلکہ انسانی بنیادیوں پر کرائی گئی ہے۔‘ڈاکٹر محمد فیصل نے واضح کیا کہ ‘میں دوٹوک الفاظ میں کہنا چاہتا ہوں کہ کلبھوشن یادیو کی ان کے اہلخانہ سے یہ آخری ملاقات نہیں ہے’۔

Loading...

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اہلخانہ کی ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ تھا لیکن کلبھوشن کی اہلیہ کی درخواست پر انہیں مزید 10 منٹ دیئے گئے۔انہوں نے بتایا کہ کلبھوشن کی اہلخانہ سے ملاقات والے کمرے میں ساؤنڈ پروف شیشہ نصب تھا اور ہندوستانی ڈپٹی ہائی کمشنر بھی ان کے درمیان ہونے والی گفتگو نہیں سن سکتے تھے۔پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ‘کلبھوشن سے ملاقات کے لیے آنے والے اہلخانہ کے چہروں پر اطمینان تھا اور انہوں نے پاکستان سمیت انفرادی طور پر سب کا شکریہ بھی اداکیا۔کلبھوشن کے طبی معائنہ کے سلسلے میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ ان کا جرمن ڈاکٹر سے طبی معائنہ کرایا گیا اور رپورٹس کے مطابق وہ طبی اعتبار سے بالکل تندرست تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان نے ہندوستان سے 10 نومبر کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کلبھوشن جادھو کی اہلیہ سے اس کی ملاقات کرانے کی پیش کش کی تھی۔گزشتہ ماہ 18 نومبر کو ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو اس پیشکش پر جواب موصول ہوا جس میں کہا گیا تھا ’انسانی حقوق کی بنیاد پر کلبھوشن کی والدہ بھی اپنے بیٹے سے ملاقات کی حق دار ہیں اس لیے پاکستان پہلے والدہ کو ویزہ فراہم کرے جن کی درخواست پاکستانی ہائی کمیشن کے پاس موجود ہے‘۔14 دسمبر کوپاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا بیان سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان نے کلبھوشن جادھو کی بیوی اور والدہ کی ملاقات سے متعلق پاکستانی پیش کش قبول کرتے ہوئے انہیں 25 دسمبر کو پاکستان بھجوانے پر رضامندی ظاہر کردی۔

پاکستان کا الزام ہے کہ کلبھوشن جادھو کو مارچ2016 میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ غیر قانونی طورپر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے۔ان کے پاس جو پاسپورٹ تھا اس میں ان کا نام حسین مبارک پٹیل تھااور انہوں نے مجسٹریت اور عدالت کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں تسلیم کیا تھا کہ وہ ہندوستانی بحریہ کے حاضر سروس کمانڈر ہیں اور را میں تعینات ہیں ۔تاہم ہندوستان نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلبھوشن یادو ہندوستانی بحریہ میں پہلے کام ضرور کرتے تھے تاہم سبکدوشی کے بعد وہ ایران میں تجارت کرتے ہیں اور انہیں چابہار بندرگاہ سے اغوا کرکے پاکستان لے جایا گیا تھا۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستان کی فوجی عدالت نے رواں سال اپریل میں دہشت گردی اور جاسوسی کے جرائم میں سزائے موت سنا دی تھی جس کی توثیق پاک فوج کے سربراہ نے کی تھی۔رواں برس 10 مئی کو ہندوستان نے ’سزائے موت سنانے کا معاملہ عالمی عدالت انصاف آئی سی جے میں لے جانے کا فیصلہ کیا اور عالمی عدالت سے اس کیس کو ہنگامی نوعیت کا قرار دے کر اس پر فوری سماعت کے لیے درخواست کی۔بعدِ ازاں 18 مئی کو آئی سی جے نے ہندوستان کی اپیل پر عبوری فیصلہ سنایا اور حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پاکستان کو ہدایت کی کہ اس کیس میں عبوری فیصلہ آنے تک کلبھوشن کی سزائے موت پر عمل درآمد سے روک دیا جائے ۔یہ کیس عالمی عدالت میں اب بھی زیر التوا ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز