چاند پر قدم رکھنے والے آخری انسان 82 برس کی عمر میں چل بسے

Jan 17, 2017 05:44 PM IST | Updated on: Jan 17, 2017 05:45 PM IST

واشنگٹن۔ چاند پر قدم رکھنے والے آخری انسان جین سرنن 82 برس کی عمر میں چل بسے ہیں۔ امریکی خلائی ادارے ناسا نے جین سرنن کے کنبہ کے حوالے سے کل یہ اطلاع دی۔ اس سلسلے میں کہا ہے کہ انھیں سرنن کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ کیپٹن سرنن کا شمار ان تین افراد میں ہوتا ہے جو دو بار چاند پر گئے۔ پہلی بار وہ 1969 میں وہ اپالو 10 مشن کا حصہ تھے جس نے چاند کی سطح سے 50 ہزار فٹ اوپر پرواز کی، تاہم وہ اترا نہیں۔ اس کے تین سال بعد سرنن اپالو 17 مشن کے کمانڈر کی حیثیت سے اپنے ساتھی خلائی مسافر ہیریسن اسکوئمٹ کے ساتھ 11 دسمبر 1972 کو نہ صرف چاند پر اترے بلکہ انھوں نے وہاں تین دن گزارے۔

انہوں نے تقریباً 30 کلومیٹر کا سفر کرکے چاند کی سطح سے 100 کلوگرام سے زیادہ پتھر اور مٹی جمع کیا تھا۔ ان کے بعد سے آج تک کوئی اور انسان چاند پر نہیں گیا۔ چاند سے لوٹتے وقت انھوں نے کہا تھا: 'ہم جیسے آئے تھے ویسے ہی واپس جا رہے ہیں۔ اگر خدا نے چاہا تو تو ہم تمام انسانیت کے لیے امن اور امید لے کر لوٹیں گے۔' سرنن چاند کے سفر سے قبل 1966 اور 1969 میں دو بار خلا میں بھی جا چکے تھے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے امریکی بحریہ میں ایوی ایٹر تھے اور انھیں 1963 میں ناسا نے اپنے خلائی مشن کے لیے منتخب کیا تھا۔ وہ 1976 میں ریٹائر ہو گئے تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی بنائی تھی۔ وہ 14 مارچ 1934 کو شکاگو میں پیدا ہوئے تھے۔

چاند پر قدم رکھنے والے آخری انسان 82 برس کی عمر میں  چل بسے

تصویر: سی این این ڈاٹ کام

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز