روہنگیا بحران : گزشتہ ایک سال سے 35 لاکھ سے زائد پناہ گزین بچوں نے نہیں دیکھی اسکول کی شکل :اقوام متحدہ

Sep 13, 2017 09:51 PM IST | Updated on: Sep 13, 2017 09:51 PM IST

اقوام متحدہ: دنیا کے کئی حصوں میں مختلف کمیونٹیز کے خلاف تشدد کی وجہ سے خطرناک شکل اختیار کرچکے پناہ گزینوں کا مسئلہ انتہائی توجہ طلب ہے اور سب سے بڑا مسئلہ بچوں کی تعلیم کا ہے۔ لاکھوں پناہ گزین بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور گزشتہ تعلیمی سال میں ایسے 35 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جا پائے۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزین امور کے ہائی کمشنر (یو این ایچ سی آر)کی کل جاری ایک رپورٹ "لیفٹ بیہائنڈ: رفیوجی ایجوکیشن ان كرائسس" کے مطابق ایو این ایچ سی آر کے تحت رجسٹرڈکل ایک کروڑ 72 لاکھ پناہ گزین بچوں میں سے 64 لاکھ بچے اسکول جانے والی عمر (پانچ سے 17 سال) کے ہیں۔ اقوام متحدہ پناہ گزین ہائی کمشنر فلپپو گرینڈی نے ایک بیان جاری کر کےکہا کہ ان پناہ گزین بچوں کو پناہ دینے والے ممالک کے پرامن اور پائیدار ترقی کے لئے ان کی تعلیم بہت اہم ہے اور جب کبھی بھی وہ وطن واپس آئیں تو وہاں کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔

روہنگیا بحران : گزشتہ ایک سال سے 35 لاکھ سے زائد پناہ گزین بچوں نے نہیں دیکھی اسکول کی شکل :اقوام متحدہ

مسٹر گرینڈی نے کہا کہ دنیا کے دیگر بچوں کے مقابلے میں ان پناہ گزین بچوں کو تعلیم اور دیگر مواقع بہت کم دستیاب ہیں۔ یو این ایچ سی آر کے مطابق دنیا کے کل 91 فیصد بچوں کو بنیادی تعلیم دستیاب ہے جبکہ مہاجرین کااعداد و شمار صرف 61 فیصد ہے اور کم آمدنی والے ممالک میں یہ 50 فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ بچے جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں حالات بدترین ہوتےجاتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں 84 فیصد بچوں کو ثانوی تعلیم حاصل ہوتی ہے وہیں محض 9 فیصد پناہ گزین بچوں کو ثانوی تعلیم مل پاتی ہے حالانکہ کم آمدنی والے ملک اس معاملے میں آگے ہیں اور وہ اپنے 28 فیصد بچوں کو ثانوی تعلیم دیتے ہیں۔

مسٹر گرینڈی نے کہا کہ ابتدائی تعلیم کے تعلق سے پناہ گزین لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کے لئے کم مواقع موجود ہیں۔ پناہ گزین لڑکوں کے مقابلے میں 80 فیصد سے بھی کم لڑکیوں کوبنیادی تعلیم حاصل ہوپاتی ہے جبکہ ثانوی تعلیم کے معاملے میں یہ اعداد و شمار 70 فیصد بھی نہیں ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز