نیپال میں قدیم ہندو روایت ’چوپاڈی‘ کے خلاف قانون سازی

Aug 11, 2017 12:07 AM IST | Updated on: Aug 11, 2017 12:07 AM IST

کٹھمنڈو : نیپال کی پارلیمان نے اُس قدیم روایت کو مجرمانہ قرار دے دیا ہے، جس میں خواتین کو اُن کے ایامِ مخصوصہ کے دوران گھروں سے باہر کچی جھونپڑیوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ اس رواج کو چوپاڈی کہا جاتا ہے۔ہندو مذہب کی اس قدیم روایت کے مطابق دوران حیض میں خواتین کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور گھر کو پاک رکھنے کی غرض سے ایسی خواتین کو گھروں سے باہر مٹی کی جھونپڑیوں یا پھر جانوروں کے لیے بنائے گئے چھپر کھٹ میں رہنے کو بھیج دیا جاتا ہے۔

ایامِ مخصوصہ کے دوران خواتین کو تنہائی میں رہنا پڑتا ہے اور انہیں دودھ پینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں حیض کے دوران انہیں کھانے کو بھی بہت کم دیا جاتا ہے۔ اکیلے رہنے کی وجہ سے ان عورتوں کے ریپ ہونے اور جنگلی جانوروں کی جانب سے حملے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

نیپال میں قدیم ہندو روایت ’چوپاڈی‘ کے خلاف قانون سازی

نیپال کی سپریم کورٹ نے سن 2005 میں چوپاڈی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر بین لگا دیا گیا تھا لیکن ملک کے پسماندہ مغربی حصے میں اب بھی یہ رسم قائم ہے۔نیپال میں کچھ برادریوں کا ماننا ہے کہ اگر حیض کے دوران خواتین کو گھر سے باہر نہ بھیجا جائے تو اُن پر بد قسمتی کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ مثلا اُن کے خیال میں یوں کوئی قدرتی آفت تباہی لا سکتی ہے۔

چوپاڈی پر قانون سازی کرنے والے پارلیمانی پینل کے سربراہ کرشنا بھکٹا پوکھارل نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا،’’ پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت چوپاڈی ایک مجرمانہ فعل ہو گا۔ خواتین کو ایام حیض کے دوران گھر سے باہر تنہائی میں رہنے پر مجبور کرنے والے کو تین ماہ جیل کی سزا دی جائے گی۔‘‘

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز