Live Results Assembly Elections 2018

کام کی بات: کیا لڑکیوں کے ورجن (کنواری) ہونے کا پتہ چل جاتا ہے؟

ہائمن کیا ہوتا ہے اور اس کی فیزیولوجی کیا ہے، اس بات کو سمجھنا چاہئے، لیکن اسے ورجنٹی (کنواری) کا پیمانہ نہیں بنانا چاہئے۔ ہائمن عورتوں کی جنسی سرگرمی کا ہی ایک حصہ ہے۔

May 15, 2018 12:09 AM IST | Updated on: May 15, 2018 12:11 AM IST

سوال: یہ کیسے پتہ لگاسکتے ہیں کہ کوئی لڑکی ورجن (کنواری) ہے یا نہیں؟ اگر کسی لڑکی کا ہائمن پہلے سے پھٹا ہوا ہے تو کیا اس مطلب ہے کہ وہ ورجن نہیں ہے؟ 

سیکسالوجسٹ ڈاکٹر پارس شاہ

کام کی بات: کیا لڑکیوں کے ورجن (کنواری) ہونے کا پتہ چل جاتا ہے؟

Loading...

جواب: سب سے پہلے تو یہ سوال ہی کافی حیران کرنے والا اور نامناسب ہے کہ کسی لڑکی کے ورجن ہونے یا نہ ہونے کا پتہ لگایاجائے۔ یہ بہت قدامت پرستی اور ماضی کی بات ہے، آج ورجنٹی کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ 

ہائمن کیا ہوتا ہے اور اس کی فیزیولوجی کیا ہے، اس بات کو سمجھنا چاہئے، لیکن اسے ورجنٹی (کنواری) کا پیمانہ نہیں بنانا چاہئے۔ ہائمن عورتوں کی جنسی سرگرمی کا ہی ایک حصہ ہے۔

عورتوں کی شرمگاہ کے باہری حصہ مں ایک پتلی سی جھلّی ہوتی ہے، جسے ہائمن کہتے ہیں، لیکن جسم کے اس حصے کی سیکس  میں کوئی رول نہیں ہوتا۔

کہنے کو تو ہائمن ایک معمولی سا ٹشو بھر ہوتا ہے، لیکن اسے لے کر کافی ایشو بھی بنایاجاتا ہے۔ دنیا کی مختلف ثقافتوں اور تہذیبوں میں ہائمن کو لے کر بہت سی غلط تصورات ہیں۔ لوگ اکثر اسے عورت کے کوماریہ یا ورجینٹی سے جوڑ کر بھی دیکھتے ہیں۔

قدیم زمانے میں یہ ہوتا رہا ہے کہ شادی کے بعد ہائمن کو عورت کے کنواری ہونے کے جانچ کا پیمانہ سمجھا جاتا تھا۔ ہائمن کے پھٹنے پر ہلکی سی بلیڈنگ ہوتی ہے۔ کئی بار یہ اتنی معمولی ہوتی ہے کہ پتہ بھی نہیں چلتا، لیکن ہائمن کو کنوری ہونے کا پیمانہ ماننے والے معاشرے اس بلیڈنگ کے ہونے یا نہ ہونے سے یہ طے کرتے تھے کہ کوئی عورت کنواری ہے یا نہیں۔

لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں اور یہ بہت ہی پسماندہ زمانے کی بات ہوچکی ہے۔ جب سائنس کا زمانہ نہیں تھا، آج کے وقت میں لڑکے اور لڑکی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح کھیل کود اور جسمانی سرگرمیوں میں فعال رہتی ہیں۔ یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہائمن کبھی بھی اور کسی بھی وجہ سے پھٹ سکتا ہے۔ زیادہ مشکل کام کرنے، سائیکل چلانے، کھیلنے، تیراکی کرنے یا ماسٹربیشن کی وجہ بھی ہائمن پھٹ سکتی ہے۔ ہائمن کے پھٹنے کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ لڑکی کنواری نہیں ہے۔

ہائمن کو لے کر سائنس کے پاس کئی طرح کے تجربہ ہیں۔ کچھ معاملات میں ایسا بھی دیکھا گیا کہ کسی عورت کا ہائمن سیکسوئلی ایکٹیو ہونے اور بچہ پیدا ہونے کے باوجود محفوظ تھا۔ ہائمن نام کی یہ جھلّی اتنی لچیلی ہوتی ہے کہ کئی بار نہیں پھٹتی ہے۔

اس لئے اس بات کو سمجھیں کہ ہائمن کیا ہے، کہاں ہوتا ہے، اس کی فیزیولوجی کیا ہے، لیکن اسے کنوارے پن کا پیمانہ نہ بنائیں۔

۔(ڈاکٹر پارس شاہ ساندھیہ ملٹی اسپشلیٹی ہاسپیٹل احمد آباد ، گجرات میں چیف کنسلٹنٹ سیکسولاجسٹ ہیں)۔

اگر آپ کے دل میں کوئی بھی سوال یا تجسس ہے تو آپ اس ای میل پر ہمیں ای میل بھیج سکتے ہیں۔ ڈاکٹر شاہ آپ کے سبھی سوالوں کا جواب دیں گے۔ 

Ask.life@nw18.com

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز