اسرائیل : عربی کے استعمال کو محدود کرنے کی تیاریاں شروع، علاقوں کی عرب شناخت اور نشانیاں بھی کردی جائیں گی ختم

May 08, 2017 11:34 PM IST | Updated on: May 08, 2017 11:40 PM IST

یروشلم : اسرائیل نے عربی زبان کے استعمال کو محدود کرنے لئے قانون سازی کی تیاری شروع کردی ہے۔ یہی نہیں ابھی سے ہی اسرائیل کے کئی وزراء نے اس کی حمایت کا بھی اعلان کردیا ہے۔ادھر عرب ممبران کا کہنا ہے قانون کی منظوری کے بعد مقبوضہ بیت المقدس سمیت تمام عرب اکثریتی علاقوں کی عرب شناخت اور نشانیاں ختم کردی جائیں گی۔

ایک برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیلی حکومت کی عربی زبان کے خلاف سازش چار سال قبل شروع ہوئی تھی ، جس کے تحت ایسا قانون تیار کرنا ہے جس میں عبرانی زبان کو مملکت کی واحد سرکاری زبان قرار دی جائے۔علاوہ ازیں یہودیوں کے علاوہ اسرائیل میں مقیم کسی بھی قوم کو خود ارادیت کے فیصلے کرنے کا حق نہیں ہوگا۔

اسرائیل : عربی کے استعمال کو محدود کرنے کی تیاریاں شروع، علاقوں کی عرب شناخت اور نشانیاں بھی کردی جائیں گی ختم

قابل ذکر ہے کہ اسرائیل کی لگ بھگ 18 سے بیس فیصد آبادی فلسطینی عرب مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی حکومت اور قانون سازوں کی جانب سے قانون کی تیاری میں تیزی دیکھی جارہی ہے جس کا مقصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل آمد سے قبل اس قانون کو اسرائیلی کنیسٹ سے منظور کرانا ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز