چین کا نوبل امن انعام یافتہ لیو زیاؤ بو کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار

Jun 30, 2017 12:53 PM IST | Updated on: Jun 30, 2017 12:54 PM IST

بیجنگ: چینی حکام نے امریکہ، جرمنی اور یوروپی یونین ک سفارتکاروں کو بتایا ہے کہ نوبل امن انعام یافتہ کارکن لیو زیاؤ بو کو بیماری کی وجہ سے علاج کے غرض سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ 61 سالہ لیو کو 2009 میں ’’سرکار کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے‘‘ کے لئے 11 سال کے لئے جیل بھیج دیا تھا کیونکہ انہوں نے بڑے پیمانے پر سیاسی اصلاحات کی اپیل کے لئے ’’چارٹر۔8‘‘ کی عرغی تیار کرنے میں مدد دی تھی۔

ان کے وکیل نے رائٹر کو بتایا ہے کہ بیماری کی وجہ سے پیرول پر رہائی پانے کے بعد ان کا شین یانگ شہر میں جگر کے کینسر کا علاج چل رہا ہے۔ وزارت انصاف کے نائب سربراہ نے سفارتکاروں کو بتایا ہے کہ لیو کا کنبہ علاج سے مطمئن ہے اور ان کے خیال میں انہیں باہر لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جاری۔ رائٹر۔ ش و۔ این یو۔

چین کا نوبل امن انعام یافتہ لیو زیاؤ بو کو علاج کیلئے باہر جانے کی اجازت دینے سے انکار

سفارتکاروں نے درخواست کی تھی کہ لیو اور ان کی بیوی کو بیرونی دنیا کے لوگوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کی اجازت دی جائے اور وہ اپنی مرضی سے اسپتال کا انتخاب کریں اور کسی غیر ملکی ڈاکٹر سے علاج کرائیں۔ مگر چینی حکام نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہوگا۔ کل 154 نوبل انعام یافتہ افراد نے اپیل جاری کی تھی کہ لیو کو علاج کے لئے امریکہ جانے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ’’ہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چینی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں لیو اور ان کی بیوی کو علاج کے لئے امریکہ جانے کی اجازت دی جائے‘‘۔ سال 2010 میں اپنے شوہر کو امن انعام ملنے کے بعد سے ان کی اہلیہ لیو زیا بھی نظر بند ہیں۔ ان سے کسی کو بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز رائٹر کو بتایا تھا کہ انہوں نے چینی حکام سے کہا ہے کہ وہ اپنے شوہر کا بیرون ملک علاج کرانا چاہتی ہیں۔

مغربی سیاست دانوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے لیو زیا باؤ کو ملنے والے علاج کے معیار پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انہیں چین سے باہر جانے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز