فرانس کے ایمینوئل میکرون نے بھاری اکثریت سے صدارتی الیکشن جیتا

May 08, 2017 01:39 PM IST | Updated on: May 08, 2017 01:40 PM IST

پیرس۔  پیرس میں صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے کا الیکشن آج اختتام پذیر ہوگیا اور ایمینوئل میکرون نے اپنے حریف میرین لے پین کو بھاری اکثریت سے ہرادیا۔ مقامی میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق پولنگ ختم ہونے کے بعد جاری پانچ رجحانوں میں مسٹر میکرون نے اپنے کمیونسٹ حریف میری لے پین کو 34 کے مقابلے 65 فیصد ووٹوں سے ہرادیا ہے اور اب ایسے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں کہ ایمینوئل میکرون فرانس کے اگلے صدر ہوں گے۔ میکرون فرانس کے سب سے نوجوان صدر ہوں گے۔ 39 سالہ ایمینوئل میکرون لبرل نظریات کے حامی ہیں جو کارروباریوں اور یوروپی یونین کے حامی ہیں جبکہ میری لے پین فرنا کے تارکین وطن مخالف پالیسی کی حامی ہیں ۔ الیکشن میں مسٹر میکرون کا معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرنا اور یوروپی یونین کے اتحاد کو تیز کرنے پر زور تھا جبکہ اس کے برعکس نیشنل فرنٹ کی امیدوار محترمہ پین یوروپی یونین مخالف اور امیگریشن مخالف تھیں۔ مسٹر میکرون کے سامنے کئی طرح کے چیلنج موجود رہیں گے۔ میکرون کی پارٹی این مارشوہ کے پاس پارلیمنٹ میں ایک بھی سیٹ نہیں ہے۔ صدارتی الیکشن کے بعد اگلے ہی مہینے پارلیمنٹ کے الیکشن ہونے ہیں۔ این مارشوہ کو الیکشن لڑنا ہوگا۔ میکرون کو اپنی حالت مضبوط کرنے کے لئے گٹھ جوڑ کا سہارا بھی لینا پڑسکتا ہے۔

مسٹر میکرون نے اپنے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ صدارتی الیکشن میں آیا یہ نتیجہ فرانس کی تاریخ کا نیا باب ہے۔ مسٹر میکرون نے انتخابی رجحانات میں ناقابل تسخیر برتری حاصل کرنے کے بعد اپنی بیوی برجیٹ کے ہمراہ پیرس کے لورو میوزیم کے سامنے تقریباً 15 ہزار حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ فرانس کی جیت ہے۔ یہ فرانس کی تاریخ کا نیا باب ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تاریخ کا یہ صفحہ امیداور نئے اعتماد کا ہو۔ میں ملک کے عوام کے غصے، فکر اور خدشات سے واقف ہوں اور بطور صدر 5 سال تک میں فرانس کو بانٹنے والی قوتوں سے لڑتا رہوں گا‘‘۔ میکرون نے اس سے پہلے کوئی منتخب عہدہ نہیں سنبھالا ہے۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے ایسے رہنما ہوں گے جن کا تعلق دو بڑی پارٹیوں سوشلسٹ اور سینٹرل رائٹ ری پبلکن پارٹی سے نہیں ہوگا۔

فرانس کے ایمینوئل میکرون نے بھاری اکثریت سے صدارتی الیکشن جیتا

فرانس کے نو منتخب صدر میکرون جیت کے بعد اپنی اہلیہ کے ساتھ پیرس میں جشن مناتے ہوئے۔ تصویر: رائٹرز

یوروپ کی سیاست میں 2017 کا سال پوری طرح سے بھونچال لے کر آیا ہے۔ جہاں ایک طرف برطانیہ نے یوروپی یونین سے علیحدہ ہونے کے لئے ووٹ دیا تو وہیں دوسری طرف امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے نیا صدر بن کر سب کو چونکا دیا اور اب فرانس کے لبرل لیڈر ایمینوئل میکرون نے صدارتی الیکشن جیت کر نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میکرون کی جیت ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جسے تین برس پہلے کوئی جانتا تک نہیں تھا۔ محض خود اعتمادی، توانائی اور لوگوں سے رابطہ ہونے کی بدولت میکرون نے  ایسی سیاسی تحریک چلائی جس نے فرانس کی تمام مستحکم اور بڑی سیاسی پارٹی کو ہلا کر رکھ دیا۔ اپریل 2016 میں این مارش تحریک سے میکرون کی شخصیت عوام کے سامنے آئی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح ہی انہوں نے بھی بہت کم وقت میں مقبولیت حاصل کرکے تاریخ بنائی ہے۔ ان کی اس شاندار فتح پر انہیں مبارکباد دی ہے۔ جرمن چانسلر نے انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی جیت ایک مضبوط اور متحد یوروپ کی جیت ہے۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز