مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایک کثیر القومی نظام بنایا جائے: محمود عباس

Feb 21, 2018 01:03 PM IST | Updated on: Feb 21, 2018 01:03 PM IST

واشنگٹن۔ فلسطینی رہنما محمود عباس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اس سال کے وسط تک ایک بین الاقوامی کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ فلسطینیوں کے علیحدہ ریاست کے حق کو مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے وسیع تر منصوبے کا حصہ بنایا جا سکے۔ سلامتی کونسل میں ایک غیر معمولی خطاب میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے کہا کہ وہ فلسطین کے لیے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دیں گے اور جن ملکوں نے فلسطین کو تسلیم نہیں کیا ان کو ایسا کرنے کے لیے کہیں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ضروری ہے کہ ایک کثیر القومی نظام بنایا جائے جس کی بنیاد ایک بین الاقومی کانفرنس کے ذریعے ڈالی جائے۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں خطاب ایک ایسے وقت کیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دار الحکومت تسلیم کرنے سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے فلسطینیوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور انھوں نے مسئلہ فلسطین میں امریکہ کے ثالث کے کردار کو مسترد کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق محمود عباس نے اپنی تجویز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس میں فلسطین کو مکمل رکنیت دی جائے، اسرائیل اور فلسطین ایک دوسرے کو تسلیم کریں اور کثیر الملکی نظام تشکیل دیا جائے جس کے تحت اس مسئلے کا حتمی اور مستقل حل تلاش کیا جائے۔

مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے ایک کثیر القومی نظام بنایا جائے: محمود عباس

فلسطین کے صدر محمود عباس۔ فائل فوٹو

فلسطینی صدر محمود عباس اپنا خطاب ختم کرنے کے بعد سلامتی کونسل کے اجلاس سے چلے گئے اور ان کی عدم موجودگی میں اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن یہ شکایت کرتے نظر آئے کہ محمود عباس ایک مرتبہ پھر ’مذاکرات سے بھاگ‘ رہے ہیں۔ چند ہفتے قبل اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی نے محمود عباس پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پر الزام لگایا تھا کہ ’ان میں قیام امن کے لیے مذاکرات کرنے کی جرات نہیں ہے‘۔ محمود عباس کے سلامتی کونسل میں اجلاس کے دوران امریکی سفیر نکی ہیلی کے ہمراہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے امریکی سفیر جیسن گرین بیلٹ بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک اور امن منصوبے پر کام کر رہی ہے گو کہ اس کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔

فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو اپنی علیحدہ ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں اور اقوام متحدہ کی کئی قراردادیں مسئلہ فلسطین کے مستقل حل تک اقوام عالم پر اپنے سفارت خانے بیت المقدس منتقل کرنے کی ممانعت کرتی ہیں۔ گذشتہ سال دسمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے امریکہ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ امریکی فیصلے کے خلاف 128 ووٹ پڑے تھے جبکہ آٹھ ووٹ اس کے حق میں پڑے تھے۔ امریکہ کے اس متنازع فیصلے کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں پندرہ میں سے چودہ رکن ملکوں نے مسترد کر دیا تھا جس کے بعد اس فیصلے کو جنرل کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔

امریکہ کی طرف سے فلسطینی مہاجرین کی امداد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کی امداد بند کرنے کے فیصلے سے بھی کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ نے فلسطین کو 1992میں غیر رکن مبصر کی حیثیت دی تھی اور اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے لیے فلسطین کو سلامتی کونسل کے تمام رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے جو کہ امریکی موقف کے پیش نظر ممکن نظر نہیں آتا۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز