دنیا کو روہنگیا تشدد کے خلاف سو کی، کی کارروائی کا انتظار: ملالہ یوسف زئی

ملالہ نے کہا، 'تشدد بند کی جائے۔ آج ہم نے میانمار کی سیکیورٹی افواج کی طرف سے چھوٹے بچوں کے قتل کی تصاویر دیکھیں۔ نہ صرف ان بچوں پر حملہ ہوا بلکہ ان کے گھروں کو بھی جلا دیا گیا۔

Sep 05, 2017 12:37 PM IST | Updated on: Sep 05, 2017 01:34 PM IST

اسلام آباد۔ پاکستان میں تعلیم کے حقوق کی لڑائی لڑنے والی کارکن اور نوبل انعام سے سرفراز ملالہ يوسف زئی نے امن کی نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سو کی سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف 'شرمناک' تشدد کی مذمت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس تشدد کی سو کی کے مذمت کئے جانے کا دنیا انتظار کر رہی ہے۔ بیس سالہ ملالہ نے میانمار کی اس لیڈر سے تشدد کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔ اس تشدد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں چلے گئے ہیں۔ ملالہ نے اپنے ملک پاکستان سے بھی مسلم پناہ گزینوں کو مدد فراہم کرنے کی اپیل کی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "گزشتہ کئی سالوں کے دوران میں نے اس المناک اور شرمناک کارروائی کی بار بار مذمت کی ہے۔ میں اپنی ساتھی نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوکی سے بھی ایسی ہی امید کرتی ہوں۔ " انہوں نے کہا، 'دنیا اور روہنگیا کے مسلمان انتظار کر رہے ہیں۔

دنیا کو روہنگیا تشدد کے خلاف سو کی، کی کارروائی کا انتظار: ملالہ یوسف زئی

ملالہ یوسف زئی: فائل فوٹو، گیٹی امیجیز۔

ملالہ نے کہا، 'تشدد بند کی جائے۔ آج ہم نے میانمار کی سیکیورٹی افواج کی طرف سے چھوٹے بچوں کے قتل کی تصاویر دیکھیں۔ نہ صرف ان بچوں پر حملہ ہوا بلکہ ان کے گھروں کو بھی جلا دیا گیا۔ ملالہ نے کہا، 'اگر میانمار ان کا گھر نہیں ہے تو پھر وہ اتنی نسلوں سے کہاں رہ رہے تھے؟ روہنگیا لوگوں کو میانمار میں شہریت دی جانی چاہئے، یہ وہ ملک ہے جہاں وہ پیدا ہوئے ہیں۔ ملالہ کو 2014 میں صرف 17 سال کی عمر میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔ ملالہ، جنہوں نے تعلیم کے حقوق کے لئے مہم چلائی، اسے مغربی پاکستان کے سوات وادی میں اس وقت گولی مار دی گئی تھی جب وہ اسکول سے اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔ اس واقعہ کے بعد انہیں بین الاقوامی طور شناخت ملی تھی۔ بعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ برمنگھم چلی گئی تھیں۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز