نجیب رزاق کا میانمار حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ

ملیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے آج میانمار سے کہا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کا تعصب اور ان پر حملے بند کرے نیز دنیا کے مسلم ممالک سے اس انسانی المیہ کو روکنے کے لئے حرکت میں آنے کی درخواست کی۔

Jan 19, 2017 08:25 PM IST | Updated on: Jan 19, 2017 08:25 PM IST

کوالالمپور: ملیشیا کے وزیراعظم نجیب رزاق نے آج میانمار سے کہا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہر طرح کا تعصب اور ان پر حملے بند کرے نیز دنیا کے مسلم ممالک سے اس انسانی المیہ کو روکنے کے لئے حرکت میں آنے کی درخواست کی۔ ملیشیا بودھ اکثریتی برما میں روہنگیا مسلم اقلیت کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف خصوصاً اکتوبر سے بہت زور و شور سے آواز اٹھارہا ہے۔ اکتوبر میں وہاں سلامتی دستوں نے بنگلہ دیش سرحد سے متصل را کھین ریاست میں ان کے خلاف سخت کارروائی کی گئی۔

خیال رہے کہ 19 اکتوبر کو سرحدی چوکیوں پر ہوئے حملوں میں برما کے 9 پولیس والے مارے گئے تھے ، اس وقت سے اب تک 86 افراد ہلاک کردئے گئے ہیں اور اندازاً 66 ہزار بھاگ کر بنگلہ دیش چلے گئے ہیں۔ ملیشیا نے روہنگیا مسئلہ پر تبادلہ خیال کے لئے اسلامی تعاون تنظیم کا اجلاس بلایا تھا ، جس میں مسلم اکثریتی ملک کے رہنما نجیب نے کہا یہ قتل عام بند ہونا چاہیے۔ خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ زیادتی بند کی جانی چاہئے ۔

نجیب رزاق کا میانمار حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ

قابل ذکر ہے کہ پناہ گزیں باشندوں اور انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ میانمار کی فورسز نے لوگوں کو بغیر قانونی چارہ جوئی کے موت کے گھاٹ اتارا ہے، عورتوں کی عصمتیں لوٹی ہیں اور گھروں کو جلایا ہے، مگر برما کی حکومت ان الزامات کو غلط بتائی ہے۔ جبکہ نوبل امن انعام یافتہ اپنی آنگ سان سوکی کا کہنا ہے کہ یہ خبریں من گھڑت ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ راکھین ریاست کا یہ جھگڑا داخلی معاملہ ہے۔

یاد رہے کہ نجیب نے پچھلے ماہ کوالا لمپور میں احتجاج میں شرکت کی تھی ۔ انہوں نے قتل عام رکوانے کے لئے غیر ملکی مداخلت کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم میانمار کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعصب آمیز حرکتیں بند کریں اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف حملے فوراً روک دے اور قصورواروں کو انصاف کے حوالے کرے۔ روہنگیا نسل کے لوگوں کے ساتھ میانمار میں کئی نسلوں سے تعصب برتا جارہا ہے۔ انہیں شہریت نہیں دی جاتی بلکہ انہیں بنگلہ دیشی مہاجر کہا جاتا ہے تاکہ انہیں حقوق سے محروم کیا جاسکے۔

Loading...

غور طلب ہے کہ اکتوبر میں راکھین ریاست میں تشدد حد سے زیادہ بڑھ گیا۔ اس سے پہلے 2012 میں بھی وہاں فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئی تھیں، جن میں سیکڑوں افراد مارے گئے تھے۔ ملیشیا نے پچھلے سال میانمار کے سفیر کو طلب کرکے بھی ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ نجیب نے کہا تھا کہ اگر جنوبی ایشیا کا گروپ اپنے اصولوں پر کار بند نہیں رہتا اور اس المیہ کو نہیں روکتا تو یہ بڑی توہین کی بات ہے۔

Loading...

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز