راکھین میں جاری تشدد کے خلاف احتجاج میں ملائیشیا نے میانمار کے سفیر کو طلب کیا

Sep 06, 2017 01:16 PM IST | Updated on: Sep 06, 2017 01:16 PM IST

کوالالمپور۔  ملائیشیا نے میانمار کے راکھین صوبے میں مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد پر ناراضگی درج کرانے کے لئے میانمار کے سفیر کو آج طلب کیا۔ ملائیشیا کے وزیر خارجہ انفا امن نے کہا کہ تشدد کے تازہ واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے میں بہت کم کام کیا ہے۔ بیشتر روہنگیا مسلمان بنگلہ دیشی سرحد کے نزدیک شمال مغربی میانمار کے راکھین صوبے میں رہتے ہیں۔

مسٹر امن نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے ملائیشیا کا خیال ہے کہ مسلسل تشدد اور روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تعصب کو ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اٹھانا چاہئے۔ مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا نے خاص طور پر روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ ملائیشیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک الگ بیان میں سیاحت سے متعلق وارننگ جاری کی ہے جس میں اپنے شہریوں کو میانمار کے راکھین صوبہ نہیں جانے کا مشورہ دیا ہے۔ اس کے علاوہ میانمار میں رہنے والے ملائیشیا کے شہریوں کو تمام ضروری احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

راکھین میں جاری تشدد کے خلاف احتجاج میں ملائیشیا نے میانمار کے سفیر کو طلب کیا

برما میں روہنگیا مسلمانوں کی تقریبا 40 لاکھ کی آبادی تھی۔ قتل عام میں تقریبا ایک لاکھ لوگوں کو مار دیا گیا۔ فوٹو، رائٹرز۔

متعلقہ اسٹوریز

ری کمنڈیڈ اسٹوریز